Wednesday, June 15, 2011

ممتا بنرجی کا اردو کے تئیں قابل ستائش قدم

ممتا بنرجی کا اردو کے تئیں قابل ستائش قدم
ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا یہ قدم انتہائی قابل ستائش ہے کہ انھوںنے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے۔ مغربی بنگال کے ان علاقوں میںجہاں دس فیصدی سے زیادہ لوگ اردو بولنے والے ہیں وہاں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ اب اردو کے اس درجہ کو عملی صورت دینے کی ضرورت ہے۔ مغربی بنگال کی سابقہ حکومت نے اردو زبان کے ساتھ انتہائی بدسلوکی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی کے اس قدم سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سابقہ حکومت بہت آسانی سے اردو کے ساتھ یہ عمل کر سکتی تھی یعنی اپنے دورِ حکومت میں بدھادیب یا ان سے قبل وزیر اعلیٰ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بہت آسانی سے دے سکتے تھے لیکن انھوںنے ایسا قطعی نہیں کیا۔ اس بات سے صاف طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکوت عوام کے فائدے کے لےے آسانی سے عمل انجام دے سکتی ہے لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی، اور ایسی حکومت کی نااہلی ، کوتاہی اور مطلب پرستی کا پردہ فاش ایسی ہی صورت میں ہوتا ہے۔ انتخابات کے ذریعہ اس حکومت کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ ممتا بنرجی کی حکومت اس بات کی سب سے اہم مثال ہے کیونکہ انھوںنے مغربی بنگال کا وزیر اعلیٰ بنتے ہی فوراً مغربی بنگال میںاردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دے کر اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ 
اب مغربی بنگال میںسرکاری محکموں میں اردو میں کام شروع ہوجائے گا، سرکاری محکموں میں اردو ترجمہ کرنے والوں کو ملازمتیں حاصل ہوںگی، اسکولوں میںاردو ٹیچر بھرتی کئے جائیںگے، اردو کتابیں شائع کی جائیںگے، اردو اخبارات میں اضافہ ہوگا اور اردو زبان کے فروغ کے لےے ایسے تمام کام،پروگرام اور دیگر سرگرمیاں انجام دی جائیںگی اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یعنی اردو چاہنے والوں کو یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ ہندوستان کی ریاستی حکومتیں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بہت آسانی سے دے سکتی ہیں لیکن یہ ریاستیں ایسا کرنا نہیںچاہتیں اور ایسی حکومتوں کی یہ بات صرف اردو زبان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عوام کو سہولیات نہ دینا ان کا سب سے اولین کام ہے۔ شاید ایسی حکومتیں عوام کے لےے کچھ کام نہ کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں جیسے مغربی بنگال میں پچھلے چوتیس سال سے اردو کو دوسری سرکاری زبان بننے سے محروم رکھا گیا اور جب ممتا بنرجی نے اقتدار سنبھالا تو فوراً اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔ ان کے پاس کوئی علاءالدین کا چراغ تو نہیںتھا کہ جو کام پچھلے چوتیس سال سے نہیںہوا تھا ان کے آتے ہی اس علاءالدین کے چراغ نے اپنا عمل انجام دے دیا۔ ایسی حکومتوں کے بارے میں عوام کی رائے کبھی اچھی نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ انتخابات میں عوام ایسی حکومتوں کے خلاف ووٹ دے کر حکومت کو ہٹا دیتی ہیں اور وہ کام جو سابقہ حکومت انجام نہیں دیتی آنے والی حکومت انجام دیتی ہے اور اس کا یہ قدم قابل ستائش ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...