Tuesday, May 17, 2011

مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری
تاریخ میںاب تک ہم 29اپریل کو اس وجہ سے یاد رکھتے ہیں کہ اسی دن یعنی 1639کو ہندوستان کی تاریخی عمارت لال قلعہ کی بنیاد شاہ جہاںنے رکھی۔ اسی دن دنیا کے عظیم مصور راجاروی رمن کی 1848میںپیدائش ہوئی اور اسی دن 1856میںانگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا۔ لیکن اب اس باب میںاضافہ ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے اس میںاضافے اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب کوئی عظیم کارنامہ ، واقعہ یا پھر کچھ ایسا ہوجائے جس کی ساری دنیا میںدھوم ہو۔ آج ایسا ہوا۔ جی ہاں، آج ہوئی ہے برطانیہ کے شہزادہ پرنس ولیم کی کیٹ مڈلٹن سے شادی ۔ شادی بھی ایسی ویسی نہیں۔ اس شادی کی تقریبات پر جہاں 20ارب روپئے کا صرفہ ہوا ہے وہیں اسے دنیا کے 180ممالک میںلائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں اس شادی کی اہمیت کا۔ شادی تو عموماً ہر روز ہوا کرتی ہے۔لیکن ایسی شادی جس میںایک راجکمار ایک معمولی سے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے پیار میں گرفتار ہوکر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنالے یہ واقعی ایک مثال ہے جس کو تاریخ کے اوراق میںلکھ دینا ہی بہتر ہے۔ باور رہے کہ کیٹ مڈلٹن آسٹریلیا کی رہنے والی ہیں اور ایسامانا جارہا ہے کہ ان کے آباﺅ اجداد کانکنی میںکام کرتے تھے۔ لیکن کیٹ جب اپنی پڑھائی کررہی تھی تو اسی وقت شہزادہ ولیم سے ان کا عشق ہوگیا اور پھر جیسے ”ایک عام لڑکی کا سپنوںکا راجکمارآتا ہے اور اس کا ہاتھ تھام کر سپنوں کے محل میںلےجاتا ہے“ کے مصداق مڈلٹن پہنچ گئی برلنگھم پیلیس۔
تبھی تو جمعرات کو ایک بیان میںپرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے اس یاد گار اور تاریخی لمحہ کو الفاظ دیتے ہوئے کہا”ہم خوش ہیں کہ آپ سب اس جشن میںشامل ہیں۔ یہ ہماری زندگی میںبے حد خوشی کا دن ہے۔ آپ لوگوں کے پیار نے ہمیں ایسی خوشی دی ہے جس کا اظہار ہم نہیںکرسکتے“۔ عموماً اس طرح کا عوامی جوش وولولہ کچھ ایک مواقع جیسے کرکٹ ورلڈکپ، فٹبال ورلڈ کپ وغیرہ میںبھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس منظر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اس شاہی شادی نے اپنا جادو ایسا بکھیرا ہے کہ لندن کی سڑکوں پر اور ہر جگہ صرف اور صرف کیٹ ولیم کی شادی کے ہی قصے قصیدے پڑھے جاتے رہے اور ان کے متعلق ہی باتیں ہوتی رہیں۔ لوگوں نے اس جشن کو اپنے اپنے تئیں بھی بڑے ہی پرجوش انداز میںمنایا۔ کسی نے سڑکوں پر ڈانس کیا تو کسی نے پارکوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میںرقص و موسیقی کی محفلیں سجا کر اس تقریبات کو یاد گار بنایا۔
دنیا کے ہر خطے میںشادیاں ہوتیں ہیں لیکن کیٹ اور ولیم کی شادی نے تو گذشتہ ہفتے سے پوری دنیا پر اپنا غلبہ جما رکھاتھا۔ دنیا کا کوئی بھی ٹی وی چینل ، اخبار اور دیگر نشریاتی ادارہ اس سے اچھوتا نہیںرہا۔ تبھی تو ہم نے کہا ہے کہ اب آئندہ جب بھی آپ تاریخ کے اوراق پلٹیںگے اس دن کی تاریخ میں یہ جملہ بھی آپ کی نظر سے گزرے گا ”آج ہی کے دن یعنی 29اپریل 2011کو برطانیہ کی شاہی خاندان کے شہزادہ ولیم کی شادی کیٹ مڈلٹن سے ہوئی۔“ ایسے میں جب ساری دنیا کے لوگوں نے اس شاہی شادی کے جشن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا بھلے ہی وہ ٹی وی اسکرین پر ہی صحیح اس شادی کی ایک اور خاص بات رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس شادی میںہماری یعنی ہندوستان کی بھی شرکت قابل فخر رہی ۔ مہارانی الیزابیتھ نے اپنے خاص مدعوین مہمانان جن کی تعداد تقریباً 1900تھی انہیںبطور تحفہ ایک ایک اسکارف پیش کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ خاص مہمان ہیں اور ان کو تحفہ مل رہا ہے تو وہ بھی تو منفرد اور اہمیت کا حامل ہوگا۔ اور آپ کو معلوم ہو کہ وہ اسکارف کہیںاور نہیں بلکہ ہندوستان کے شہر لدھیانہ میںتیار ہوا ہے۔ جناب یہ ہے ہمارے ہندوستان کے آرٹ کا جادو جو آج پوری دنیا میںسرچڑھ کر بول رہا ہے۔

    
حضرت شیفتہ لکھنؤ سے واپس کیا لوٹے بقراط صاحب کا مزاج خوشگوار ہوگیا۔ ملتے ہی فرمایا جناب آپکا مصرعہ کل سے کانوں میں گونج رہا تھا کہ ،لکھنؤ سے کوئی آیا کیا دیکھ آ چمن میں، اور بس شیفتہ تشریف لے آئے۔ ہم نے پو چھا حضور لکھنؤ کا کیا حال ہے۔ فرمایا کیا کہیں کیا نہ کہیں۔ ہم نے کہا حضور وہ سپ کچھ کہیے جو ،باباماما، سے میل نہ کھاتا ہو۔ فرمایا اودھ سے لکھنؤ تک  کا ایک الگ غم تھا اب لکھؤ سے ،ہتھنؤ، بننے کا دکھ دیکھا نہیں جاتا۔ اودھ کے نوابوں کو بھول کر انکے ہاتھیوں کے مجسمے جابجا نصب کر دئےگیے اور اب اسے،ہتھنؤ، کہنا مناسب لگتا ہے۔ کیا کہیں ، تھی دو نینوں سی گنگا جمنی تہزیب۔ بقراط صاحب نے برجستہ کہا، وہ بیچاری بھی بھینگی ہوگئی۔ فرمایا خوب کہا ۔ شہر لکھنؤ سے رامپور تک کچھ عجب نظارہ تھا۔ ہر جگہ مایا جال، کہیں جی کا جنجال، وہ اکھڑ پن کہ لکھنؤ کی نزاکت و فصاحت کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ کالی سفید حسینائیں مغربی کاروں کی طرح دندناتی پھرے ہے ہر جا۔ اور ایک خاتون کا نام تو ہے پردہ پر رہے ہے بے پردہ۔ چندسال پہلے اہلیانِ حکومت ،منافقت ہی سہی لیکن کچھ نرم و ملائم نظر آتے تھے لیکن اب تو منہ میں کریلا اور تیوری پر ،ہل، چڑھائے گھومتے ہیں۔ ہم نے کہا حضور آپکا مطلب ہے بل چڑھائے فرمایا جناب بل میں تو گنتی کی سلوٹیں ہوتیں ہیں۔ آپ ہل کا تصور کیجیے اور محاورہ تبدیل کر دیجیے۔
 بقراط صاحب نے پوچھا اپنے معاشرہ کا کیا حال ہے۔ فرمایا الحمداللہ قدیم لکھنؤ کے شہدوں کی اولادیں بھی اب دین سے جڑگئیں اور تیر و تفنگ پھینک کر جدید علوم سے فارغ التحصیل ہیں۔ اچانک حضرت شیفتہ کو ہماری خاموشی سے بے چینی ہونے لگی ۔ اک استفہامیہ  نگاہ ڈالی اورگویا ہوئے۔ آپ کو دیکھکر محسوس ہوتا ہے کہ، آ عندلیب ملکر کریں آہ وزاریاں۔۔تو ہائے گل پکار میں چلاوں ہائے دل۔ ہم نے کہا حضور بقراط صاحب کی کل یہی کیفیت تھی۔ ہمارا حال کچھ مختلف ہے۔ پوچھا کیا بزم میں پھر کوئی انہونی ہوگئی اور یہ ،باباماما، رشتےدار کسکا ہے۔ وہی تو نہیں جسکی خرمنِ ہستی پر بجلی کیا گری ،ق، بُرّاق سے پگھل کر ،ک، ہوگیا۔ بقراط صاحب نے فرمایا حضور یہ وہی برق زدہ ہے۔ شیفتہ نے پوچھا بچ کیسے گیا۔ بقراط نے کہا بس اب بجھے دیے کیطرح ہے۔ اسکے نام سے تشدید بھی پگھل کر غائب ہو گئی اس سے پہلے کے پورا نام پگھل جاتا کسی نے انگریزی کا ،او، لگا کر منجمد کردیا۔ شیفتہ نے کہا ہم لکھنؤ چھٹی کیا گئے دنیا میں کیا کچھ ہوگیا۔ ہم نے کہا اگر آپ دنیا سے چلے گئے تو سوچیے اور کیا ہوجائے ۔  فرمایا حضور توبہ کیجیے ہمارے اب گنگنانے کے دن ہیں۔ ہم نے کہا بڑبڑانے کے بھی لیکن آپ یہ بتائیے کہ ہم دونوں کے لئے لکھنؤ سے کیا لائےہیں۔ فرمایا جناب کیا لاتے۔ اکثر نان بائی اور کبابچی تو بمبئی آگئے تھے اور جو بچے وہ دبئی اور سعودی  سدھارے۔ سسرال والوں نے جو ،بہشتی کباب، دیے تھے وہ بیگم ریل کے سفر میں پان کی گلوریاں سمجھکر کھا گئیں۔ لکھنؤ کے کرتے اور اچکن آپ دونوں کے لیے لائے ہیں۔ ایک حسرت ہمیشہ رہی دل میں کہ آپ دونوں کو کبھی شریفانہ لباس میں دیکھتے۔
 بقراط صاحب نے فرمایا شکریہ حضور لیکن ہمارے لباس میں قباحت کیا ہے۔ فرمایا نہ قبا ہے نہ کسی قسم کی حت، نہ ملاحت، نہ راحت، نہ صحت اور فصاحت تو زرا بھی نہیں، نہ ہی لباس میں کوئی وزن، ناف کا قافیہ تنگ اور ردیف لا پتہ، گردن سے کلائی تک کوئی بحر نہیں بس سینے سے نیچے ایک بحرِ حمل۔ ہم نے کہا حضور وہ بحرِ رمل ہے۔ فرمایا اور نہ ہی کہیں رنگِ تلمیح، نہ بٹن میں تشبیہ نہ کف میں کوئی استعارہ۔ لباسِ شریفانہ نہ ہوا لباسِ رقیبانہ ہوا۔ ہم نے دل ہی دل کہا شیفتہ تم سے خدا ہی سمجھے، لیکن امریکیوں کی ذلالت سے تو بہتر ہے اپنوں کے ستم ظریفانہ ۔    
بقراط صاحب گویا ہوئے۔ حضور ہمارے لباس نرے مغربی تو نہیں۔ فرمایا مکمل مغربی تو نہیں کیونکہ انکا تو وہ حال ہے کہ۔ امیری اور غریبی اوڑھے چیتھڑے دونوں۔کہیں پیسوں کی کہیں حیا کی تنگی ہوگئی۔ ہم نے کہا حضور فرانس میں اہلِ ایمان اپنی شناخت کی جنگ امن اور ثابت قدمی سے لڑ رہے ہیں ہمیں ان پر فخر ہونا چاہیے۔ فرمایا بلکل ہونا چاہیے، لیکن اہلِ بر صغیر آپلوگ بس فخر کرتے رہیو انکے اوصاف مت اپنائیو۔ اور جب کبھی ایکدوسرے سے گلے ملنا ہو تو وہی پرانا جواز ڈھونڈو اور فرنگیوں کو خوب گالیاں دو۔ ہمارے پاس اس کے سوا متحد ہونے اور گلے ملنے کی کوئی وجہ ہے کہاں ۔ بقراط صاحب نے فرمایا اس معاملے میں کم از کم اہلِ مغرب آپس میں متحد ہونے کے لیے کسی عرب یا غیر فرنگی کو گالیاں نہیں دیتے اور یہ انکی اعلی ظرفی ہے۔ ہم نے کہا ظرف سے اہلِ مغرب کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انکے پاس ہر کام کے لیے ایک جادوئی لفظ ہے،اسٹراٹیجک،۔ بس اسے جہاں چاہے وہ استعمال کر لیتے ہیں ۔ چاہے رشتے استوار کرنا ہو یا بگاڑنا ۔ سیاست، شرافت، عداوت اور یہاں تک کے اپنی اولاد کی تربیت کے لیے بھی۔ حضرت شیفتہ کے اوسان خطا ہوگئے فرمایا کاش یہ میر وغالب کو پتہ  ہوتا۔ کمالِ فن تو دیکھیے کہ عشق کرنے سے لےکراولاد پیدا کرنے تک سب کچھ ایک کمبخت لفظ کے تحت ہوتا ہوگا۔ نوکری، تجارت، تعلقات، مذہب، حکومت، زندگی موت سب ایک ہی محور کے تحت، یعنی۔ گر نہیں زندگی میں معنی، نہ سہی، اسٹراٹیجی تو ہے۔    
بقراط صاحب نے کہا ایک بات انکی یہ بھی قابلِ تعریف ہے کہ اسٹراٹیجی کا جب استعمال کیا تو مذہب کو در کنار نہیں کیا۔ ہم نےکہا اہلِ مغرب نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کو مکمل اپاہیج تو کردیا لیکن نہ ہی زندگی سے باہر کیا اورنہ ہی علم وادب سے۔ شیفتہ نے کہاپھر وہ ترقی پسند ادب میں کہاں سے آئے تھے۔ ہم نے کہا حضور اگر آپ انکو بمبئی کے تناظر میں سمجھنا چاہیں تو عرض ہے کہ ستّر کی دہائی میں ہمیں انکو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ سب صبح یٰسین شریف پڑھکر گھر سے نکلتے اور کالج یونیورسٹی میں ،انٹلکچوول، کہلانے کی ہوڑ میں ترقی پسند بننے کا ڈھونگ رچاتے۔ ان سب کے باقاعدہ نکاح ہوئے اور بسترِ مرگ پر اکثر کو کلمہ بھی نصیب ہوا۔ بقراط نے کہا واہ کیا ،اسٹراٹیجی، تھی۔ ہم نے کہا ہاں گنتی کے  کچھ ،فرائڈ زدہ، بھی تھے انکا حشر بھی دنیا نے دیکھ لیا۔ مختصر یہ کہ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، بے مذہب ادب اور بے ادب مذ ہب دونوں کو زوال ہوا۔ شیفتہ نے بقراط صاحب کو کچھ کہنے سے روک دیا اور فرمایا بس کیجیے اب اس منحوس لفظ کو زبان پر نہ لائیں سنکر ہی متلی ہونے لگتی ہے۔  ہم نے کہا حضور برداشت کرلیں کچھ دن۔ ،اسٹراٹیجی،  بھی زوال پذیر ہے۔ باقی تو وہی رہے گا جو حق ہے۔ 
بقراط صاحب اچانک ،مہم پسند، نظر آنے لگے اور فرمایا حضور آپ ،مسند نشیں، نہیں ہو کہ معصوم عن الخطاء کہلاو، اسلئے حق کی بات کرنا نادانی ہے۔ اور ویسے بھی بمبئی والوں کے حقوق دیگروں سے مختلف ہے۔ شیفتہ نے کہا لیجیے اب حق بھی علاقائی ہوگیا۔ ہم نے کہا ،یارانِ  خرد، حق عالمی بلکہ لاہوتی ہے اور شکر الحمداللہ کہ ہمارے دین کے تحفظ کا ذمہ خود مالکِ دو جہاں نے اٹھا کر اسے ،پریسٹ ھڈ، سے دور رکھا ورنہ جنابِ فلکی کے سابقہ شعر سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑے کہ۔ اگر حقوق کے گوشوارے بنیں تو کوئی بھی اہلِ ایمان نہ ہو۔ ہاں ہم سب ،اسٹراٹیجک، زدہ بن جائیں گے۔  

Saturday, May 14, 2011

EK SAMUNDAR.HAZARON KHAWAB


 ایک سمندر، ہزارو ں خواب

عزیز نبیل کے مجموعے خواب سمندر پر ایک نظر
  خواب سمندر ، عزیز نبیل کے خوابوں کا ہفت رنگ سمندر ہے، جسکی شناوری کے دوران ماضی اور ماضی قریب کے متعدد شعراء سے ملاقا ت ہو تی ہے مگر اس فنکار نے اتنے کمال کی خواب گری کی ہے کہ سب لہجوں کے تاثر کے باوجود قا ری کے ذہن پر جو آخری تاثر ابھرتا ہے وہ عزیز نبیل کے سوا کسی اور کا نہیں ہوتا اور یہی بات اسکو اپنے ہمعصروں میں ممتاز کرتی ہے۔
 خواب سمندر کا شاعر روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ تجربات کو بھی شجرِممنوعہ نہیں سمجھتااور ہر خیال کو نیا اور چونکا دینے والا بنانے کے لئے الفاظ و تعبیرات کی خوبصورت اور دل آویز کہکشاں تخلیق کرتا ہے اور پوری فنی مہارت کے ساتھ اسکی نوک پلک سنوار کر جب گویا ہوتا ہے تو سننے اور پڑھنے والے کو اچھلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ دریا کچھ زیادہ ہنس رہا ہے
اسے صحرا کی جانب موڑ دوں کیا
یا
برا نہ مانو تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں
مجھے تمہا ری محبت سے خوف آتا ہے
 خواب سمندر کا شاعر مثبت اور توانا سوچ کا حامل شاعر ہے ۔جسکے لہجے میں کسک تو ہے ،لیکن لچک نہیں ہے ،وہ پر اعتماد ہے اور منزل تک پہنچنے کا یقین رکھتا ہے،وہ صرف لفظوں کی جادوگری نہیں کرتا بلکہ ان میں حقیقت کا رنگ بھر کر زندگی کو قریب سے پیش کرتا ہے ۔جتنا کچھ اسکی آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اس کا دل محسوس کرتا ہے۔وہ غزل کے گرتے ہوئے معیار کو بھی نظر انداز نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ
غزل کہنا بھی ایک کارِ بے مصرف سا لگتا ہے
نیاکچھ بھی نہیں ہوتا بس ایک تکرار چلتی ہے
اور آگے بڑھ کر پرانے رستوں پر نئے نقشِ قدم ثبت کرنا چاہتا ہے اور غیر متزلزل یقین کے ساتھ قافلے کی باگ ڈور تھامنے کا اعلان کرتا ہیکہ
میں اگر ٹوٹا تو سارا شہر بکھرے گا نبیل
ایسا پتھر ہوں فصیل شہر کی بنیاد کا
اسکے اس اعلان سے قبیلے کے سردار بھڑک اٹھتے ہیں اور اسکو بغاوت کی خلعت سے نوازتے ہیں اور یہیں سے اس شاعر کی حقیقی دریافت شروع ہوتی ہے اس کے اس اعتراف کے ساتھ کہ
ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیل
ایک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں
نبیل کا یہ نیا راستہ بہت خوشنما مناظر لئے ہوئے ہے،یہاں ہر جذبہء دل کو تعبیروں کا نیا پیراہن ملتا ہے اور ہر احساسِ نظر کو نئی پوشاک عطا کی جاتی ہے ،یہاں روانی و شگفتگی ہے، معا نی اور شائستگی ہے ،یہاں خواب ِامروز ہے اور تصورِ فردا بھی،یہاں داخلی کیفیات بھی ہیں اور بیرونی واقعات بھی ہیں ، یہاں صبحِ تازہ کی امید ہے اور شب ِ سیاہ کے خاتمہ کی نوید ہے، یہاں محبوب سے محبت کا برملا اظہار بھی ہے اور اپنی خودداری اور انا کا ببانگِ دہل اعلان بھی،یہاں سب کچھ ہے کونکہ یہ سمندر ہے ،خوابوں کا سمندر۔
عزیز نبیل کے اس مجموعے میں ۹۲ غزلیں ،۱۳ نظمیں اور ایک دعائیہ نظم بھی شامل ہے ۔ہر دو صنف میں شاعر کی قادر الکلامی اور صداقت و برجستگی انتہائی نمایاں ہیں۔ ہر غزل میں آپکی سماعت و بصارت کو محیر کردینے والا شعر ضرور موجود ہے اور کئی غزلیں تو پوری کی پوری مرصع اور ذوق آفرین ہیں ۔ نت نئی تعبیریں قاری اور سامع کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار ۔
راستوں نے قبائیں سی لی ہیں
اب سفر کو مچل رہا ہوں میں
۔۔۔۔
کیوں نہیں دیکھتا ہے وہ مڑ کر
مر گئیں راہ میں صدائیں کیا
 معاصر غزل کا دامن کافی وسیع ہوگیا ہے اور وہ محبوب کے لب و رخسار کی ہی بات نہیں کرتی بلکہ سیاست ،معیشت ،معاشرت اور بین الا قوامی تعلقات کوبھی موزوں کرتی ہے ۔ عزیز نبیل نے ان تمام موضوعات کوغزل کی حقیقی حلاوت کے تھال میں سجا کر پیش کیا ہے،اس نے کا نٹوں سے بھی پھولوں کا کام لیا ہے ۔اور جب ضرورت پڑی تو پھولوں کو کانٹوں کے روپ میں ڈھال دیا ہے ۔ تونس اور مصر کے حالیہ واقعات ،اور ان سے پہلے اور بعد کے ایسے ہی منظر نامے دیکھیئے اور پھر یہ شعر پڑھئے کہ۔
تب کہیں جھکایا ہے سر، غرورِ شاہی نے
جب اٹھالیا سر پر تخت ،بے گناہی نے
 اسکی وارفتگی بڑے کمال کی ہے اور خود سپردگی غیر مشروط ہے۔
اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس وخاشاک سمجھ
کوز ہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوتے
یہ سجیلا شاعر دو انسانی روحوں کے ملاپ کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کر گیا ہے کہ غزل خود پر اترانے لگتی ہے ،دیکھئے تو سہی

مرے سوال کی برجستگی سے گھبرا کر
نظر جھکانا ، سراپا جواب ہو جانا
اور اسی رشتے کا اظہار ایک اور زاوئیے سے یوں کیا ہے
مرے اشعار میں شامل تری خوشبو ہو جائے
دشتِ افکار میں اے کاش تو آہو جائے
مرا ہر لفظ ترے روپ کی تمہید بنے
کبھی بندیا کبھی کنگن کبھی گھنگھر و ہو جائے
نبیل کی غزلوں میں جذب و مستی اور برجستگی اور سچائی کے عناصر بہت نمایاں ہیں ۔ہجر و فراق ، زمانے کے ستم اور انسانیت کو در پیش محرومیوں اور نا انصافیوں کے تذکرے تو ہیں ،لیکن انکا تناسب وصال و امید اور نوید و عزیمت کے دروس و پیغامات سے کم ہے اور اسی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ شاعر مایو سیوں کا نہیں مسرتوں کا شاعر ہے ،

 وہ گرنے والوں پر ہنستا نہیں بلکہ انہیں اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ ظلم کی قصیدہ خوانی نہیں کرتا بلکہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سینہ سپر ہو جاتا ہے اور یہی وہ جذبہ ہے جو اس کی شا عری کو عام شا عری کی صف سے نکال کر با مقصد شاعری کے زمرے میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے ۔بطورِ مثال مختلف غزلوں کے چند اشعار دیکھیں۔
تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے
مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
آوٴ سفر کی پھر سے کریں ابتدا نبیل
بیٹھے ہیں کب سے راہ کی دلدل سمیٹ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔
حالانکہ کیٴ لوگ ہیں ناراض بھی مجھ سے
جو بات بھی کی میں نے،بہرحال کھری کی
۔۔۔۔۔۔۔۔
مری غیبت تو اسکا مشغلہ ہے
مگرتم نے گوارا کر لیا کیا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
اک سفر یوں بھی کیا ہم نے سر جادئہ شوق
دل عقیدت کی طرف، عقل بغاوت کی طرف!
 عزیز نبیل عصر حاضر کے ان چند نوجوان شعراء کی صف میں کھڑا ہے جنہیں قدرت نے غزل اور نظم دونوں میں یکساں خوبی کے ساتھ خیالات برتنے کا ہنر دیا ہے بلکہ کہیں کہیں تو اس شاعر کا قد نظموں میں زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ اسکی نظمیں انتہایٴ چست اور شستہ ہیں،وہ زبان کا دھنی ہے اور اپنا مدعا بآسانی اور موٴثر ترین الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ سوالوں کا ترکش، نور چہرہ لوگ، شہر دل، ماں اور فلسطین ایسی نظمیں ہیں جو قاری یا سامع کے ذہن و دل پر فوری اثر کرتی ہیں جو دیر تک اسکے حواس پر قائم رہتا ہے۔ نظم فلسطین میں معصوم انسانیت پر ہونے والے تذکرے کے بعد ایک موٴرخ کو مخاطب کرتے ہوئے نبیل کہتا ہے
 اے مورخ قلم ہاتھ میں پھر اٹھا
 جا بجا روشنائی بکھرنے نہ دے
 وہ مقدس لہو جو شہیدوں کا ہے
 اسکو مضمون بنا ،کوئی عنوان دے
 عہدِ حیوانیت کی ڈگر پر نہ جا
 اپنی انسانیت آسمانی بنا
 اپنی انسانیت جاودانی بنا
عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ اسکی ذمہ داریوں کو بڑھاتاہے اور شائقینِ ادب کی توقعات میں انتہائی اضافہ کرتا ہے ۔
 دبنگ لہجے کے اس شاعر کا مستقبل بہت تابناک اور انتہائی شاندار نظر آتا ہے اور کوئی عجب نہیں کہ آج سے پچاس سال کے بعد جب کوئی موٴرخ ادب ِ مہجر کی تاریخ مرتب کرے تو خلیج کے مہجری ادب بالخصوص شاعری کو عہدِ نبیل سے قبل اور عہدِ نبیل کے ما بعد ،کے دو خانوں میں تقسیم کردے۔
 عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ خواب سمندر اسکی اب تک کی کاوشوں کا کشید ہے ۔اور اگر سرِورق سے اسکی تصویر اور تعارفی خاکے سے تاریخ پیدائش کسی صورت غائب کردی جائے تو یہ مجموعہ کم از کم تیس/چالیس سال کی مسلسل ریاضت کا حاصل لگتاہے ۔
 خوابوں کے سمندر کے ایک دعائیہ خواب کے ساتھ اپنی بات ختم کر کے اجازت چاہو ں گا کہ
خدا بچائے کسی کی نظر نہ لگ جائے
ذرا سی عمر میں شہرت سے خوف آتا ہے

Monday, May 9, 2011

पहले 'आई लव यू' कहने से झिझकती हैं लड़कियाँ

पहले 'आई लव यू' कहने से झिझकती हैं लड़कियाँ
NDFILEऐसा माना जाता है कि रोमांटिक रिलेशनशिप की शुरुआत में पुरुषों की तुलना में महिलाएं थ्री मैजिक वर्ड यानी 'आई लव यू' कहने में अधिक बेबाक होती हैं लेकिन एक ताजा शोध में इस बात को झुठला दिया गया है। नए शोध के मुताबिक रिलेशनशिप के दौरान महिलाएं नहीं बल्कि पुरुष इस मामले में अधिक बेबाकी दिखाते हैं जबकि महिलाएं झिझकती हैं।दिल की बात कहने में सप्ताह कम समय : यही नहीं महिलाओं की तुलना में पुरुष अपने पार्टनर से प्रेम का इजहार करने में भी कम समय लगाते हैं और पार्टनर से प्यार की स्वीकारोक्ति के मामले में भी वे महिलाओं से आगे होते हैं। रिपोर्ट के अनुसार पुरुष महिलाओं से अपने दिल की बात कहने में सप्ताह कम समय लेते हैं। एमआईटी स्लोन स्कूल मैनेजमेंट में सहायक प्रोफसर सहशोधकर्ता जोश एकरमैन ने बताया कि उन्होंने महिला और पुरुष के आई लव यू कहने की टाइमिंग और फंक्शन की भिन्नता की बारीकी से जांच करने के बाद पाया कि प्यार के इजहार के मामले में पुरुष भले ही महिलाओं से अधिक व्यग्रता दिखाते हों, लेकिन प्यार की परिभाषा को लेकर पुरुषों और महिलाओं के सोच में काफी भिन्नता होती है।स्वीकारोक्ति बेहतर रिलेशनशिप की द्योतक : वैज्ञानिकों ने एक श्रृंखलाबद्ध अध्ययन के बाद पाया कि करीब दो तिहाई कपल्स ने स्वीकार किया कि उनके बीच प्यार की स्वीकारोक्ति में पुरुषों ने ही पहल की थी। रिपोर्ट कहती है कि रतिक्रिया रहित एक महीने के रिलेशनशिप में पुरुष जहां पार्टनर के मुंह से 'आई लव यू' सुनकर खुश दिखाई पड़ता है, वहीं महिलाएं रिलेशनशिप में रतिक्रिया के शामिल होने के बाद 'आई लव यू' सुन कर खुश होती हैं।शोधकर्ताओं के मुताबिक यौवन संबंध से पूर्व की जाने वाली प्यार की स्वीकारोक्ति बेहतर रिलेशनशिप की द्योतक होती है, जिसमें यौवन व्यवहार भी शामिल है जबकि यौन संबंधों के बाद "आई लव यू" को महिलाएं पुरुषों के समर्पण के संकेतक की तरह लेती हैं। इस अध्ययन को पर्सनैलिटी एंड सोशल साइकोलॉजी में प्रकाशित किया गया है।

GAIL KA JALWA


گیل  کا جلوہ
کرکٹ کے کھیل میں کب کیا ہوجائے کچھ کہانہیں جاسکتاہے۔ کون کس پر اور کیسے برس جائے قبل از وقت کہنا بڑا ہی مشکل ہوتاہے ۔ اور وہ بھی فٹافٹ کرکٹ یعنیT-20میں ایسی کوئی پیشن کوئی کرنا تو ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ کب کس بلے باز کا قہر ٹوٹے اور اس کا نشانہ کون بنے یہ کوئی بھی کہنے سے قاصر ہوتاہے۔ جیساکہ اس آئی پی ایل میں دیکھنے کو مل رہاہے۔ جی ہاں، اس آئی پی ایل میں تو ایک سے بڑھ کر ایک نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ ایک ریکارڈ بن رہے ہیں بلکہ شائقین کو تالیاں بجانے اور خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ اپنے ٹکٹوں کے پیسے وصول کرانے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں رائل چیلنجرس بنگلور کا مقابلہ کوچی ٹسکرس سے ہوا۔ ٹاس ہوا اور پہلے کوچی ٹسکرس نے بلے بازی کی۔پھر دوسری اننگ کی شروعات ہوئی۔ یہاں تک تو ٹھیک ٹھاک چل رہاتھا۔ اپنے ہدف کا تعاقب کرنے اتری رائل چیلنجرس کی ٹیم کے کھلاڑی کرس گیل جس نے اس سیزن میں5میچ کھیلتے ہوئے دوسنچریوں کے ساتھ 328رن بنائے تھے،نے اننگ کی تیسری اوور میں ایسا قہر ڈھایا کہ سبھی محو حیرت رہ گئے۔ جب گیند کوچی ٹیم کے گیند باز پرشانت پرمیشورن نے تھامی ہوگی تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچاہوگا کہ اس کایہ اوور اتنا خراب جائے گا۔ لیکن جناب کرس گیل نے تو قہر ڈھادیا، پہلی اوور دوسری گیند پرچھکا، پھردوچوکہ، پھرلگاتار دوچھکے اور آخری گیند پر چوکا ایساپڑا کہ پرمیشورن کو میدان پر ہی” پرمیشور “دکھائی دینے لگے۔گیل نے اس اوور میں مجموعی طور پر37رن بنایا جس میں ایک نوبال بھی شامل تھی۔
غضب کی بلے بازی کی کرس گیل نے۔ ویسے گیل کیلئے یہ سیزن کافی اچھارہاہے۔ انہوں نے 5میچ کھیلتے ہوئے82کی اوسط اور 205کے اسٹرائک ریٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے328رن بنائے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اس آئی پی ایل میں سب سے زیادہ چھکا لگانے والے بلے باز بھی بن گئے ہیں۔ گیل نے اب تک26چھکے لگائے ہیں جو اس آئی پی ایل کا اب تک کاایک ریکارڈہے۔ اب جبکہ گیل کا بلا بول رہاہے اچھے اچھے کرکٹروں کے ہوش باختہ ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اب اس بات کی ہوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اس آئی پی ایل کے ”اورےنج کیپ“ پر کون قبضہ جماتاہے ۔گیل نے اپنی جس جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ آئندہ میچوں میںدوسروںکیلئے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ اگر اسی انداز میں گیل کا پر فارمنس جاری رہاتو ممبئی انڈینس، کو لکاتہ نائٹ رائدرس اور دیگر آئی پی ایل کے دعویداروں کو کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہی بات ہے کہ اس آئی پی ایل کی دیگر ٹیموں نے خود کوسجانا اور سنوار نا شروع کردیا ہے جس میں خاص طور سے رائل چیلنجرس بنگلور کے خلاف ہونے والے میچ اور اس میں بھی کرس گیل کا سامنے کرنے کیلئے ایک بہتر اور موثر حکمت عملی اپنانا شامل ہے۔
کرس گیل کیلئے بھلے ہی آئی پی ایل کے فرنچائزی نے بولی نہیں لگائی تھی اور انہیں ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ویسٹ انڈیز ٹیم میں شامل نہیں کیا تھالیکن جیسے ہی چیلنجرس نے ڈرک نینس کی جگہ پر انہیں ٹیم میں شامل کیا مانو ٹیم کو ایک سنجیونی بوٹی ہاتھ لگ گئی جس کا اثر تو آپ کی نظروں کے سامنے ہی ہے۔ آج وہ آئی پی ایل کے تمام ایڈیشنوں میں2سنچری لگاکر سرفہرست ہیں ۔یعنی کہ آج چاروں جانب گیل کا جلوہ ہے۔ سبھی کرکٹ شائقین ان کے اور ان کی قہر برپاکرتی بلے بازی کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ ایساہوبھی کیوں نہیں؟ آخر گیل نے ایسا مظاہرہ ہی کردکھایا ہے کہ سبھی کوان پر فخر کرنے پر مجبور ہونا پڑاہے۔ بہرحال کرس گیل کاجادو نہ صرف ہزاروں روپے کا ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے والوں کو تفریح کا سامان مہیا کرارہی ہے بلکہ ٹیم کیلئے بھی ایک نیک شگن ہے ۔ایسے میں رائل چیلنجرس بھی اپنے اس قیمتی اور کارآمد ہےرو کیلئے دعاگو ہوگی کہ اسی طرح گیل کا بلا چلتارہے اور اسی طرح ہم جیتتے رہیں اور آخر میں کہلائیں آئی پی ایل 4-چمپیئن!

OSAMA KA GHAR YA FARM HOUSE











Thursday, May 5, 2011

GOOD BYE TYPEWRITER


ٹائپ رائٹر کی رخصتی
ذرا اندازہ لگایئے اس خوشی کا جو ملک ہندوستان کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 1955میں اپنے گھر پر ٹائپ رائٹرلگوانے کے بعد محسوس کی ہوگی۔یہ ٹائپ رائٹر اس وقت کے لئے اتنا ہی اہمےت کا حامل اور کار آمد تھا جیسا کہ اب کمپیوٹر ہے ۔ یہ ٹائپ رائٹر کے عروج کا زمانہ تھا اور ہندوستان میںاس کی آمد جواہر لال نہرو کے گھر ہوئی تھی جسے اس وقت کے گودریج کمپنی کے چیئرمین ایس پی گودریج نے آنجہانی نہرو کے تین مورتی واقع رہائش گاہ پر نصب کیاتھا۔ بڑی اہمیت تھی اس وقت ٹائپ رائٹر کی۔ کسی سرکاری بابو کے پاس کوئی عرضی دینی ہو تو اسے ٹائپ کرانا پڑتا تھا۔ کہیں کوئی درخواست دینی ہو تو اسے بھی ٹائپ کرانا پڑتا تھاجس طرح آج کے زمانے میںکمپیوٹر سے ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں کے باشندگان کے لئے تو اس وقت ایک اےسی چےز آگئی تھی جس میں قلم کی کوئی ضرورت نہیں اور الفاظ کا غذ پر اترآتے تھے۔ چشمہ آنکھوں پر لگائے ٹائپ رائٹر بابو بٹن دباتے’ ٹک ٹک‘ اور الفاظ کاغذ پراےسے اترتے چلے جاتے جےسے دل مےں جو سوچا وہ کاعذ پر اترتا چلا گےا۔ حال کے دنوں میںبھی آپکو کورٹ کچہری، بلاک اور ضلع دفاتر میںاور اس کے ارد گرد کہیں ٹینٹوںمیںخیمہ زن تو کہیں عدالتی احاطے میںاستعمال ہوتے ہوئے یہ دیکھنے کو مل جاتی ہےں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا پورا نام یعنی Typewriterاس مشین میں ایک ہی لائن میںتربیت دیئے گئے ہیں۔ جی ہاں، اس کی حروف کی پہلی قطار میں ہی ان حروف کو اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ اس کا نام واضح ہوجاتا ہے۔ 
خیر یہ تو رہی اس کی تاریخ، افادیت اور اہمیت اب ذرا دوسرا پہلو دیکھئے۔ وہ یہ کہ اب ٹائپ رائٹر ہمارے درمیان سے کوچ کررہا ہے۔ وجہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔ کمپیوٹر کازمانہ آگیا ہے سو لوگ اب کمپیوٹر ٹائپنگ کرتے ہیں اور اس کی مانگ ہوچلی ہے۔ ایسے میںبیچارے ٹائپ رائٹر کو کون پوچھے۔ ویسے بھی نئی نسل ”آل اِن ون“ کی عادی ہوگئی ہے یعنی اسے ایک ہی مشین سے اور ایک ہی جگہ بہت ساری چیزیں مثلاً تعلیم کے تعلق سے جانکاری، موج مستی کے لئے فلم وموسےقی اور اب کے زمانے کی سب سے اہم ترین ضرورت انٹرنیٹ درکار ہیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی اس کا استعمال کرنے کو تیار نہیں تو بھلا کمپنی اسے تیار کیوں کرے؟ سو گودریج جیسی نامی گرامی کمپنی نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اب ٹائپ رائٹر کی پیداوار بند کررہی ہے۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے گودریج کمپنی کے جنرل منیجر آر ملندوی ڈکلے نے کہا ”یہ واقعی ہندوستان میں ہمارا ایک لمبا صفر تھا جو 1955سے اب تک جاری تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہم نے ایک سال میں 50,000ٹائپ رائٹر تیار کئے اور فروخت کئے لیکن وقت اور حالات کے بدلنے سے ہمیںایسے مشکل فیصلے کرنے پڑرہے ہیں۔“ یعنی کہ اب ٹائپ رائٹر کا چل چلاﺅ ہے جو نہ صرف یہ کہ ایک مشین کا خاتمہ ہے بلکہ ایک عہد (ٹائپ رائٹر کا دور زمانہ) کا خاتمہ ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسی خبریں سنکر جس نے ہمارے آباﺅ اجداد کو اپنی خدمات دےں، اسے اب ہمارے درمیان سے رخصت ہونا پڑرہا ہے۔ دکھ تو اس بات پر بھی ہوتا ہے آئندہ کی نسل اس کارآمد آلہ سے محروم رہے گی۔ یہ بات دیگر ہے کہ جدیدیت کو اپنا شیوہ بنانا چاہئے۔ خیر جو بھی ہو اب ٹائپ رائٹر صرف اور صرف ہمارے لئے ایک تاریخ بن کر رہ جائے گی۔ اگر حکومت ہند کے دل میںکچھ رحم آجائے تو وہ اسے اپنے میوزیم کی زینت بنادے تو یہ ہمارے لئے وراثت بن جائے لیکن ٹائپ رائٹر نے ہمیں جو دیا اسے ہم کبھی فراموش نہیں کرپائیں گے۔ گڈ بائے ٹائپ رائٹر، گڈ بائے۔

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...