...کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
وزیراعظم مودی کے حالیہ ’من کی بات ‘پرہندوستان کا سیکولرطبقہ بالخصوص مسلمان کیسے یقین کرے کہ واقعی آئین اور جمہوریت ان کے لیے مقدم ہے اورہندوستان آزاد ملک ہے جہاں سب کو یکساں طور پر رہنے اور زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے
معراج ایم نوری
اس وقت سیاسی اعتبار سے ملک کی سب اہم ریاست گجرات میں انتخابات کا
دوردورہ ہے اور سیاسی پارٹیوں بالخصوص حکمراں جماعت بی جے پی اور نریندرمودی جو اسی ریاست کی سیاست کرکے آج وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں، کے لیے یہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار اس ریاست کے انتخابی نتائج کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ نتائج بی جے پی کا مستقبل طے کریں گے۔ وہیں دوسری جانب ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے بعد حاشیے پر گئی کانگریس کے لیے بھی یہ اہمیت کا حامل ہے جہاں وہ بہتر کرکے خوداعتمادی اور حوصلہ حاصل کرکے ۲۰۱۹ء کی سیاسی پچ تیار کرسکتی ہے۔اس ماحول میں سبھی اپنے اپنے پلیٹ فارم سے عوام کو خطاب کررہے ہیں اور اپنے اپنے پیغامات پہنچارہے ہیں۔اسی کڑی میں وزیراعظم ہند نریندرمودی نے’من کی بات‘ کے۳۸؍ ویں ایڈیشن میں ہم وطنوں سے خطاب میںہندوستانی آئین کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے ہم وطنوں سے اس پر لفظ بہ لفظ عمل کرنے اور اسی کی روح کے مطابق’نیا ہندوستان‘ بنانے کی اپیل کی تاکہ سماج کے غریب، پسماندہ اور محروم طبقات کے مفادات کی حفاظت کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ۱۹۴۹ءمیں آج ہی کے دن آئین ساز اسمبلی نے ہندوستان کے آئین کو قبول کیا تھا اور۲۶؍ جنوری۱۹۵۰ءکو یہ نافذ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین ہماری جمہوریت کی روح ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آئین پر لفظ بہ لفظ عمل کریں۔ کسی کو کسی بھی طرح سے کوئی نقصان نہ پہنچے، یہی آئین کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ ، فطرت کا کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جو اس سے اچھوتا رہ گیا ہو۔ سب کے لئے مساوات اور سبھی کے تئیں حساسیت ، ہمارے آئین کی شناخت ہے۔ یہ ہر شہری، غریب ہو یا دلت، پسماندہ ہو یا محروم طبقات ، قبائلی ہو یا خواتین سب کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کے مفادات کو محفوظ رکھتا - ۔
بہت - خوشی ہوئی کہ وزیراعظم ہند نے اپنی تقریر میں آئین اور اس میں دیئے گئے حقوق کو شامل کیا لیکن اس کے برعکس جب ہندوستان کے موجودہ حالات اور پے درپے رونماہونے والے واقعات پر نظر دوڑتی ہے تو انتہائی صدمہ ہوتا ہے ۔ایک طرف وزیراعظم ہند تو ہندوستانی آئین کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے ہم وطنوں سے اس پر لفظ بہ لفظ عمل کرنےکے متمنی ہیں وہیں دوسری طرف ان کی مادرتنظیم آرایس ایس تو چھوڑئیے ،ان کی پارٹی بی جے پی تو درکنار ان کے وزارتی رفقہ ہی ہندوستانی آئین کی دھجیاں اڑاتے ہیں جس پر آج تک انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کبھی ایسا محسوس ہوا کہ وزیراعظم اس تعلق سے سنجیدہ ہیں ۔
اس صف میں کھڑے ہیں مرکزی وزیر گری راج سنگھ جنہوں نے کہا تھا کہ کچھ لوگ جن کامکہ مدینہ پاکستان ہے، وہ نریندر مودی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مودی کے تمام مخالفین کو پاکستان چلے جانا چاہئے۔اس کے بعد نمبر آتا ہے وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کاجنہوں نے دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ دہلی میں حکومت ’رام زادوں‘ کی بنے گی یا حرام زادوں‘ کی۔بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج تو اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔میرٹھ میں ایک کانفرنس میں انہوں نے کہاتھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے چار بیویوں اور۴۰؍ بچوں والے ذمہ دار ہیں۔ آبادی میں اضافہ کے لئے ہندو ذمہ دار نہیں ہیں۔
ایسے حالات میں نریندرمودی کی اس تقریر کو ایک اور ’جملے‘کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتاہے کہ جس کے ذریعہ وہ سیاسی روٹی سیکنا چاہتے ہیں۔دراصل گجرات کے موجودہ حالات میں بی جے پی اور وزیراعظم مودی حاشیے پر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں مودی گجرات کا کئی بار دورہ کرچکےہیں ۔اعلانات کی بارش کرچکے ہیں۔موجودہ وقت میں پوری مرکزی کابینہ ،کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ،بی جے پی کی پوری ٹیم کے ساتھ ساتھ سنگھ پریوار گجرات کی خاک چھان رہا ہے ۔ ایسے میں مودی نے اپنے سرکاری پلیٹ فارم سے جس طر ح سے آئین اور جمہوریت کی دہائی دے کر خود،پارٹی اور سرکارکو جمہوریت اور آئین کا پاسدار بتانے کی کوشش کی ہے وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل یقین ہے ۔کیونکہ آج ملک کے حالات دیکھ کر ایسا نہیں لگتا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو کسی بھی طرح سے کوئی نقصان نہ پہنچے، یہی آئین کا پیغام ہے لیکن ان کی ناک کے نیچے ریاست راجستھان کے الور میں مبینہ گورکشکوں نے عمر خان اور طاہر کو بری طرح مارا پیٹا اور گولی مار دی۔ واردات میں عمر کی موت ہو گئی۔ عمر کو ریل کی پٹری پر ڈال کر اس واردات کو حادثے کی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔
اس سال اپریل میںراجستھان کے ہی باشندہ پہلو خان پر۲۰۰؍مسلح لوگوں نے حملہ کیا،جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔یہ لوگ مبینہ طور پر گئو رکشک تھےاور پہلو پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ گئو کشی میں شامل ہے۔حد توتب ہوگئی جب راجستھان پولیس نے اس قتل کے تمام چھ نامزد ملزمین کو بے قصور قرار دےدیا۔ جن ملزمی ن کو پولیس نے کلین چٹ دی ہے، مرحوم پہلو خان کے بیٹے کے مطابق ان کے والد نے موت سے قبل ان ملزمین کا نام لیا تھا۔اس معاملہ میں راجستھان پولیس نے کافی دباؤ کے بعد تفتیش شروع کی تھی اور۶؍ افراد کو اہم ملزم قرار دیتے ہوئے مسلسل مفرور رہنے کے بعد انعام بھی رکھا ہوا تھا۔ مذکورہ ۶؍ ملزمین او م یادو، حکم یادو ، سدھیر یادو، جگ مال یادو، نوین شرما اور راہل سینی کو پولیس نے کلین چٹ دے دی۔ ان میں سے تین ملزمین ایک ہندو تنظیم سے وابستہ ہیں۔اس کے علاقہ دادری میں محمد اخلاق کا قتل ،وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات میں ہی اونا میں دلتوں کی پٹائی وغیرہ سیکڑوں معاملات رونما ہوچکے ہیں جس میں ان کی پارٹی بی جے پی کے کارکنان،آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے بے لگام ممبران شامل رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکزمیں برسراقتدار جماعت بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم آرایس ایس زبان سے یو یہ نہیں کہتی کہ اس کو مسلمانوں سے نفرت ہے لیکن اس کے دل و دماغ سےیہ تصور کبھی جاتا نہیں ہے اس لیے کہ ان لوگوں اور تنظیموںنے ہندوستان کو صرف ایک ہندو ملک ہی مانا ہے اور یہاں صرف ہندوئوں کو آباد ہونے کا حق دیا ہے۔ایسے حالات میں ہندوستان کا سیکولرطبقہ بالخصوص مسلمان کیسے وزیراعظم کے ان ’جملوں‘پر یقین کرے کہ واقعی آئین ور جمہوریت ان کے لیے مقدم
ہے اورہندوستان آزاد ملک ہے جہاں سب کو یکساں طور پر رہنے اور زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
مرزا اسداللہ خاں غالبؔ نے ٹھیک ہی کہاہے:
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
merajmn@gmail.com

