مرکز میں نریندر مودی حکومت نے ہندو ¿وں کو آر ایس ایس کے ذریعے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب کو جواز فراہم کرنے اور ان کے دلوں میں مسلم آبادی کا خوف پیدا کرنے کے لیے مردم شماری کے اعداد و شمار کو یک طرفہ پیش کرتے ہوئے دہلی انتخابات سے عین قبل مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کا دعویٰ کیا ہے جس پر گھر واپسی جیسے شرانگیز مہم چلانے والے بھگوا تنظیموں کی باچھیں کھل گئی ہیں کہ آج تک وہ جو دعویٰ کررہی تھیں اس کی تصدیق ہورہی ہے۔
محکمہ مردم شماری نے مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی مردم شماری کے تعلق سے صرف مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی معلومات فراہم کی ہے تاہم اس میں اضافہ کا موازنہ دیگر مذہبی طبقات سے نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی آبادی میں اضافہ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں قومی اوسط 18 فیصد کے برعکس 2001 سے 2011 کے دوران 24 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کل آبادی میں مسلمانوںکی نمائندگی 13.4فیصد سے بڑھ کر14.2 فصد ہوگئی ہے۔۔ اصولاً دیکھا جائے تو ملک میں مسلمانوں کی آبادی صفر اعشاریہ 8 فیصد بڑھی ہے جو کسی بھی لحاظ سے زیادہ نہیں ہے لیکن اس پر بھگوا تنظیموں نے واویلا مچانا شروع کردیا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کو اگر تیزی سے بڑھنے سے روکا نہیں گیا تو وہ دن دور نہیں جب ملک میں مسلمان اکثریت میں آجائیں گے۔
مذہبی گروپس کی آبادی پر مشتمل مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تمام صوبوں میں جموں کشمیر میں سب سے زیادہ مسلم آبادی 68.3 فیصد ہے۔ اس کے بعد آسام میں 34.2 اور مغربی بنگال میں 27 فیصد مسلم آبادی ہے۔ رپورٹ ہی کے مطابق 1991 سے 2001 کے درمیان مسلم آبادی کی شرح نمو تقریباً 29 فیصد تھی۔ گذشتہ دہائی میں آبادی بڑھنے کی رفتار میں 5 فیصد کمی آنے کے باوجود یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملک میں مسلم آبادی میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی سب سے تیزی سے آسام میں بڑھی ہے۔ ریاست میں 2001 میں مسلمانوں کی کل آبادی30.9فیصد تھی لیکن 2011 تک یہی تعداد34.2 فیصد ہوگئی تھی۔ اس پر بھی دعویٰ کیا گیا کہ بنگلادیش سے مسلسل دراندازی ہوتی رہتی ہے اور آسام میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کا یہی سبب ہے۔
اس سے پہلے سال 1991 سے 2001 کے درمیان مسلم آبادی کی شرح نمو تقریبا 29 فیصد تھی جو کہ اگلے دہائی (2001-11) میں گھٹ کر 24 فیصد ہو گئی. صرف منی پور اکیلا ایسی ریاست ہے جہاں مسلم آبادی میں کمی دیکھنے کو ملی ہے. یہاں مسلم آبادی 8.8 فیصد سے کم ہو کر 8.4 فیصد ہی رہ گئی ہے.
سال 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق بھارت کی کل آبادی 1028610328 تھی۔ اس میں ہندوو ¿ں کی تعداد تقریباً827578868 یعنی 80.5 فیصد تھی۔ منی پور، اروناچل پردیش، میزورم، لکشدیپ، ناگالینڈ، میگھالیہ، جموں کشمیر اور پنجاب کو چھوڑ کر ملک کی دیگر 27 ریاستوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہندو اکثریت میںہیں۔دوسری جانب ملک میں مسلمانوں کی آبادی 13.4 فیصد یعنی 138188240 تھی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعداد کی بنیاد پر مسلمان ہندوستان میں اقلیت ہےلیکن کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے ایسے کئی علاقے ہیں، جہاں ان کی آبادی ہندوو ¿ں کے مقابلے زیادہ ہے۔ یہی نہیں، اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو انڈونیشیا کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔تقریبا پورے ملک میں مسلمان رہتے ہیں. جموں وکشمیر اور لکشدیپ میں مسلمان اکثریت میںہیں۔ آسام (30.9)، مغربی بنگال (25.2)، کیرالہ (24.7)، اتر پردیش (18.5) اور بہار میں(16.5) فیصدمسلم آبادی ہے۔سال 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق ملک میں 1.9 فیصد آبادی سکھوں کی ہے۔ سکھوں کی آبادی19215730تھی۔ یہ اقلیتی سماج ہے۔سکھ برادری کے لوگ بنیادی طور پر پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔ ملک کے کل سکھوں کی 75 فیصد آبادی پنجاب میں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ چندی گڑھ (16.1)، ہریانہ (5.5)، دہلی (4.0)، اتراکھنڈ (2.5)، جموں کشمیر میں(2)فیصدسکھ رہتے ہیں۔
سال 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق ملک میں عیسائیوںکی آبادی کل آبادی کا 2.3 فیصد یعنی ہندوستان میں 24080016 عیسائی رہتے ہیں۔شمال مشرقی بھارت اور جنوب کے کچھ حصوں میں عیسائیوںکی اچھی خاصی آبادی ہے۔ اس کے علاوہ شاید ہی ملک کا کوئی ایسا ضلع ہوگا جہاں عیسائی نہ ہوں۔ ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ منی پور (34)، گوا (26.7)، انڈمان اور نکوبار (21.7) اور کیرل (19) اور اروناچل پردیش (18.7)فیصدعیسائی آبادی ہے۔
ملک میں بودھوں کی آبادی کل آبادی میں فیصد 0.8 ہے۔ یعنی ان کی تعداد سال 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق7955207 تھی۔بدھ مذہب کو ماننے والے لوگ اترپردیش، بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش کے علاوہ شمال مشرقی بھارت، جموں کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش، مغربی بنگال اور اوڈیشا میں کافی تعداد میں ملتے ہیں لیکن ہندوستان کا شاید ہی کوئی ایسا ضلع ہو، جہاں بدھ مت کا کوئی پیروکار نہ رہتا ہو۔ملک میں جین سماج کے لوگوں کی آبادی 0.4 فیصد یعنی 4225053 ہے۔جین سماج کے لوگ ہریانہ، دہلی، اتر پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت ملک کے کئی ریاستوں میں رہتے ہیں۔ملک میں پارسی سماج کے لوگوں کی کل آبادی تقریبا 69000ہے۔ پارسی سماج کی آبادی دیگر مذاہب کے لوگوں کے مقابلے تیزی سے گھٹ رہی ہے۔پارسی سماج کے لوگ مہاراشٹر، گوا، دمن دیو اور گجرات میں سب سے زیادہ رہتے ہیں۔بھارت میں یہودیوں کی کل آبادی 5000 بتائی جاتی ہے۔ یہودی مہاراشٹر کے ممبئی اور تھانے میں رہتے ہیں۔
ہندوستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ 1891 سے 1921کے درمیان شروع ہوا۔ پہلے مرحلے کے ان 30 سالوں میں آبادی میںاضافہ 0.19 فیصد سالانہ کی شرح سے ہوا، جو نہ کے برابر تھی۔ اس کی وجہ پیدائش اورشرح اموات کا تقریباً برابر ہونا تھا۔
دوسرا مرحلہ 1921 سے 1951کے درمیان تھا۔دوسرے مرحلے کے 30 سالوں میں آبادی میں اضافہ1.22 فیصد سالانہ کی شرح سے ہوا، جو بہت زیادہ نہیں تھا۔اس اضافہ کا سبب یہ تھا کہ شرح اموات میں کمی ہوئی اور یہ 49 شخص فی ہزار سے کم ہو کر 27 شخص فی ہزار ہو گئی۔وبائی امراض پر کنٹرول حاصل کرنے کے سبب اموات در میں کمی آئی تھی۔
تیسرا مرحلہ 1951 سے 1981کے درمیان کا ہے۔آزادی کے بعد کے ان 30 سالوں میں 2.14 فیصدسالانہ کی شرح سے آبادی میں 32.2 کروڑ کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ یہ دوسرے مرحلے کی اضافہ کی شرح سے تقریبا ًدوگنا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دوران پیدائش کی شرح میںبرائے نام کی کمی آئی جبکہ طبی شعبے میں نئی نئی ایجادات کی وجہ سے اموات کی درگھٹ کر 15 شخص فی ہزار ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں اس مدت میں ملک میںآبادی کادھماکہ ہوا۔
چوتھا مرحلہ 1981 سے 2001کے درمیان تھا۔ آبادی کنٹرول سے متعلق مختلف اقدامات، پالیسیوں،تعلیم کی ترقی اور صحت کی سہولیات میں توسیع کے نتیجے میں اس مدت میںآبادی میں اضافہ کی شرح میں تھوڑی کمی آئی۔ 1981-91 کے دوران یہ شرح 24.7 سے کم ہوکر23.5 اور 2001 میں 21.3ہوگئی۔
اس حوالے سے وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار رجسٹرار جنرل کی طرف سے مرتب کئے جارہے ہیں لیکن ان کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا کہ آخر رپورٹ مکمل ہونے سے قبل ہی اس طرح کے اعداد و شمار میڈیا کے ہاتھ کیسے لگ گئے۔
دراصل مردم شماری کے اعدادوشمار کو قبل ازوقت میڈیا میں لانے اور اس تعلق سے جاری شور کے پیچھے ایک ذہنیت کارفرما ہے جو صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بناکر وقفہ وقفہ پر مختلف عنوانات سے جاری و ساری کئے جاتے ہیں۔مردم شماری ہر دس سال پر ہوتی ہے اور یہ قانونی اورآئینی روح سے صحیح بھی ہے ۔ہر ملک اپنی اپنی سطح سے ملک میں موجود افراد کے اعدادشمار اکٹھا کرتے ہیں اور اس کی رو سے مختلف لائحہ عمل ترتیب دے کر اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن ہندوستان کاالمیہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے باشندگان کے اعدادوشمار سے بھی سیاسی روٹی سینک کر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوش کرتے ہیں۔اس ضمن میں یہ بات وا ©ضح کرنی ضروری ہے کہ مردم شماری کے دفتر نے یہ ڈیٹا گزشتہ سال مارچ میں تیار کئے تھے لیکن یو پی اے حکومت نے اس کے جاری کرنے پر روک لگا دی تھی جس کے پیچھے کی وجہ شاید ان نتائج سے لوک سبھا انتخابات پر پڑنے والے ضمنی اثرات کا ڈر تھا۔اب جبکہ ہندوتوا نواز بی جے پی کی حکومت ہے اوراس کے حواری وقفے وقفے پر بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کی مثال پیش کرکے اکثریتی فرقہ کو ڈرانے اور اس کا ووٹ حاصل کرنے میں مصروف رہی ہے اس لئے اس ڈیٹا کو عام کرنے میں کوئی دیر نہیں کی گئی۔
دراصل مذہب کی بنیاد پر اعدادوشمار پیش کرنے اور اس کا فائدہ اٹھانے کا یہ کھیل برٹش حکومت نے شروع کیا تھا جس نے ہندوستان میںذات پات کے متعلق نہ صرف تمام باریکیوں کو جمع کیا بلکہ ہر ا یک سماجی اکائی کی تعداد کو بھی 1881 سے مردم شماری کا حصہ بنایا اور ان سب چیزوں کو گزیٹ میں شامل کیا۔ سر ہربرٹ رزلی نے جو 1911 کی مردم شماری کے کمشنر تھے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ذاتوںکی درجہ بندی کی تھی۔ اس کا کہنا تھا صرف ذات کی شناخت کا ریکارڈ کرنا کافی نہیں ہے۔انگریزی دور حکومت میں 1931تک ذات کی بنیاد پر مردم شماری ہوتی رہی جو دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے 1941میں اس کا اہتمام نہیں کیا جاسکا۔
دوسری جانب ان اعداد و شمار کے آنے کے بعد وی ایچ پی نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم ہندو ¿وں سے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کریں گے۔ اس بارے میں وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری سریندر جین کا کہنا ہے کہ اب تک ہم جو بات کہتے تھے وہ مردم شماری کی رپورٹ سے ثابت ہورہی ہے۔ اب ہمارا ایک ہی مقصد ہوگا کہ کسی طرح سے ہندو ¿وں کی آبادی مین اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس طرح کی بیان بازیاں کافی دنوں سے جارہی ہیں۔ اگر ہم اس طرح کے بیانات، تبدیلی ¿ مذہب کے اقدامات، مسلمانوں پر انتہاپسندوں کا تشدد اور پولیس کی خاموشی کے پیش نظر مودی کی خاموشی اور مسلمانوں کی آبادی کے حوالے سے مذکورہ یک طرفہ رپورٹ کو نظر میں رکھیں تو شاید ہمیں کافی حد تک اس بات اندازہ ہوجائیگا کہ ملک کی سیاست کس طرف قدم بڑھارہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف وی ایچ پی اور آر ایس ایس کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد اس طرح کی رپورٹ کا مودی سرکار کی طرف سے عام ہونا کافی معنیٰ خیز معلوم ہوتا ہے۔
No comments:
Post a Comment