معراج نوری
بی جے پی کا سےاسی ڈرامہ آخر کار لال کرشن اڈوانی کے استعفی واپس لےنے
کے ساتھ ہی ختم ہو گےا۔ےہ اےک اےسی خبر تھی جس کی پل پل کی اطلاع کو مےڈےا نے کو ر کےا اور عوام کے سامنے پےش کےا۔آئےے اےک نظر ڈالتے ہےں کہ ملک کے مشہور ومعروف اخبارات نے اس خبر کو کس طرح اور کس انداز مےں پےش کےا:ہندی روزنامہ ’دےنک بھاسکر ‘ ن
ے لال کرشن اڈوانی کی بے بسی کو اےک جملہ مےں اس طرح بےان کےا ہے ’مودی کو مان گئے اڈوانی ‘۔اخبارنے اسی خبر کے ساتھ اےک باکس مےں تحرےر کےا ہے کہ لگتا ہے خود اڈوانی کی ہی اےماں پر قابل احترام واپسی کا ےہ ناٹک رچا گےا۔اڈوانی کے اس حال سے جے ڈی ےو سکتے مےں آجائے گا ۔ہوسکتا ہے مودی کا ساتھ دےنے مےں خود شرد ےادو ثالثی کرےں۔کےونکہ ان کے پاس اب کام ہی کےا بچا ہے ؟سماجواد کے سارے نعرے تو کانگرےس پہلے ہی چرُا چکی ہے۔
ہندی روزنامہ ’پربھات خبر‘ لکھتا ہے کہ اپنے سینئر لیڈر کے استعفی کے بعد بے چین بی جے پی نے منگل کو چین کی سانس لی۔ ایک طرف سنگھ کی مداخلت کے بعد خفا اڈوانی جہاں مان گئے، وہیں پارٹی میں’مودی دور‘ کا باقاعدہ آغاز بھی ہوا کیونکہ اعلی قیادت نے اپنے سینئر رہنما سے اشاروں میں ہی واضح کر دیا تھا کہ آپ کی ضرورت ہے، لیکن تبدیلی بھی کم ضروری نہیں۔ روٹھنے منانے کے اس کھیل میں جیت کس کو ملی، ہارا کون ؟ےہ راز ابھی پوشیدہ ہے لےکن زلزلہ کے بعد ملی یہ راحت کتنی پائیدار ہے، یہ تو مشن -2014 ہی بتائے گا۔
روزنامہ ’راشٹر ےہ سہارا ‘ نے اس موضوع کو اپنی دوسری اہم خبر بنائی ہے او ر اس کا عنوان دےا ہے ’بھاجپا مےں فی الحال ’ےدھ (جنگ بندی)‘وِےرام‘۔اخبار لکھتا ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور نریندر مودی کے حق میں کھڑے رہنماو ¿ں کے درمیان منگل کو فی الحال جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے بعد لگتا ہے اب سرد جنگ چلتی رہے گی۔ بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے نریندر مودی کو سونپی گئی مرکزی انتخابی مہم کمیٹی کے صدر کے عہدہ کی ذمہ داری پر کسی طرح کے سمجھوتے سے صاف طور پر انکار کر دیا۔ بس اڈوانی کی عزت رکھنے کے لئے مستقبل کے وزیر اعظم کے امیدوار کا نام طے کرنے کے لئے اجتماعی غوروفکر کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔خاص بات یہ ہے کہ یہ سارے دعوے بی جے پی صدر راج ناتھ اور دوسرے لیڈروں نے کئے ہیں۔ اڈوانی کی طرف سے کوئی بےان نہیں آیا ہے۔
ہندی روزنامہ ’دےنک جاگرن‘ نے بھی اپنے ادارےہ مےں اس معاملے کو جگہ دی ہے اور ’نقصان کی بھرپائی ‘کے عنوان سے لکھا ہے کہ سینئر بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی جس طرح اپنا استعفی واپس لینے کے لئے راضی ہو گئے اس کے بعد پارٹی راحت کی سانس لے سکتی ہے، لیکن استعفی کی وجہ سے پیدا ہوئے سوالات اب بھی جواب طلب ہےں۔ سچ تو یہ ہے کہ جس طرح یہ استعفی واپس لےا گےا اس سے بھی کئی سوال کھڑے ہو گئے ہیں، کیونکہ بی جے پی کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ ان کی تشویشات پر توجہ دی جائے گی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اڈوانی نے اپنے چھوٹے سے خط میں جو بڑے سے سوال کھڑے کئے تھے وہ سب کے سب صحیح تھے؟ کیا بی جے پی درست سمت میں نہیں جا رہی تھی؟ کیا کچھ پارٹی لیڈر حقیقت میں اپنے ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے تھے؟ کیا آج بی جے پی میں ویسے رہنما نہیں ہیں جو ملک اور لوگوں کی فکر کر سکیں؟ دراصل یہ ایسے سوالات ہیں جو بی جے پی کو بھی گھےرے گی اور خود اڈوانی کو بھی۔ ان سب سے الگ ایک سوال یہ بھی اٹھے گا کہ آخر 24 گھنٹے میں ایسا کیا ہو گیا کہ اڈوانی نرم پڑ گئے، کیونکہ پارٹی نے ان کے استعفی کے ساتھ ہی یہ بھی صاف کر دیا تھا کہ گوا ایگزیکٹیو میں جو فیصلے لئے جا چکے ہیں ان سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا اور نریندر مودی کے حوالے سے لئے گئے فیصلہ سے تو بالکل ہی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ اڈوانی کے مطمئن ہو جانے اور اپنا استعفی واپس لینے کے لئے تیار ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ نے جس طرح یہ کہا کہ ان کے خدشات کا مناسب وقت پرازالہ کیا جائے گا تو اس سے تو یہی لگتا ہے کہ انہیں ایک باعزت راستہ دیا گیا ۔چونکہ اڈوانی نے اپنے استعفی میں اپنی شکایات کو واضح نہیں کیا تھا اس لئے یہ بھی مانا جا رہا تھا کہ شاید ان کی ناراضگی نریندر مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کے چیئرمین بنائے جانے سے نہیں بلکہ آر ایس ایس کی مبینہ مداخلت سے تھی۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر ان کے استعفی کی واپسی سنگھ کے دخل دےنے کے بعد ہونے کا کیا مطلب؟ کیا یہ نہیں لگتا کہ کسی طرح معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کوشش کے چلتے بی جے پی میں ظاہری طور پر سب کچھ معمول پرہو سکتا ہے، لیکن اندرونی طور پر اٹھاپٹخ تھمنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment