جمرات کو کراچی آرٹس کونسل پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں عالمی اردو کانفرنس شروع ہوئی۔ اس چار روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ہندستان سے آنے والے مندوب ممتاز نقاد ڈاکٹر شمیم حنفی نے ’ہندوستان میں اردو ادب کا اجمالی جائزہ، اور ممتاز فکشن نگار انتظار حسین نے ’پاکستان میں اردو ادب کا اجمالی جائزہ‘ کے عنوانوں سے بات کی۔ جب کے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے استقبالیہ اور کونسل کے سیکریٹری نے مندوبین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی ، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر اسلم فرخی، انتظار حسین، حمایت علی شاعر، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم، محمد علی صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، مسعود اشعر، امینہ سید، ڈاکٹر انور سجاد، درمش بلگر، سعید نقوی اور محمد حسین سید پر مشتمل تھی۔پہلے روز کے دوسرے سیشن میں دوسرے اور تیسرے سیشن کو ملا کر ایک کر دیا گیا۔ یہ سیشن نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس، ناپا سے شائع ہونے والی کتابوں، ضیا محی الدین کی ’تھیٹرکس‘، شکیسپئر کے دو کھیل ترجمہ خالد احمد، دو یونانی کلاسیکی ڈرامے ترجمہ عقیل روبی کے اجرا کے حوالے سے تھا۔ جبکہ دوسرا سیشن ’ضیا محی الدین اعترافِ کمال‘ کے عنوان سے تھا۔ اس سیشن کی مجلسِ صدارت شمیم حنفی، انتظار حسین، راحت کاظمی، آصف فرخی اور احمد شاہ پر مشتمل تھی۔ اس سیشن میں شمیم حنفی، انتظار حسین، راحت کاظمی اور آصف فرخی نے خطاب کیا۔ نظامت ارشد محمود نے کی اور آخر میں خود ضیا محی الدین نے الف لیلٰی پر انتظار حسین کا پیش لفظ، مشتاق یوسفی، ابنِ انشا کی تحریریں اور میرا جی کی نظم سمندر کا بلاوا پڑھی۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...
No comments:
Post a Comment