Tuesday, September 25, 2012
Friday, September 21, 2012
Thursday, September 6, 2012
سیکورٹی ایجنسی کی خود احتسابی کی ضرورت
معراج نوری
گذشتہ 18جولائی کے ہندوستان کے اےک معتبر ہندی روزنامہ کے ایک شمارے میںکرکٹ کے تعلق سے ایک خبر پڑھنے کو ملی جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھیکہ ہندو پاک کرکٹ ٹیموں کے در میان مجوزہ سیریز اگر ہندوستان مےںکھیلی جاتی ہے تو تحفظات کے نقطہ ¿ نظر سے اس میچ کو دیکھنے کے خواہش مند پاکستانی کرکٹ شائقین کو ہندوستان آنے کا ویزہ ایسے ہی نہیںدیا جائے گاجیسے اب تک دیا جاتا ہے یعنی معمولی خانہ پری کئے ہوئے بلکہ اب اس جانب پھونک پھونک کر قدم بڑھائے جائیں گے۔ اس خبر میں مرکزی وزارت داخلہ کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے کہ ہر کھلاڑی کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اس کے لئے تیار بھی ہیں لیکن کرکٹ میچ دیکھنے آنے والے ہر ایک باشندے کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی ویزا جاری کیا جائے گا۔ یہ احتیاط اس لئے برتا جارہا ہے تاکہ 26/11ممبئی حملے کا ملزم اسجد میر جیسا کوئی دہشت گرد پھر سے اس ملک میں نہ گھس آئے۔ ہندوستانی وزارت داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارت اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ کہیں کوئی پاک نژاد دہشت گرد کرکٹ کی آڑ میں ہندوستان نہ آجائے ۔یہی نہیں ضرورت پڑنے پر میچ دیکھنے آنے والے پاک شائقین کو ویزا حاصل کرنے کے لئے گارینٹر کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔
یہ چیزیں تو ظاہر ہے کہ تحفظات اور سلامتی کے تعلق سے ضروری ہےں ےا یوں کہیں کہ نہایت ضروری ہیں جو ملک ہندوستان کے ہر ایک عوام کے تئیں حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کے اعتبار سے فیصلہ سازی کر کے ملک کی سالمیت اور تحفظات کو یقینی بنائے۔ اس کے برعکس اس خبر میں وزارت داخلہ کے حوالے سے ہی ایک اور بات کہی گئی ہے اور وہی بات ہے جس نے ہمیں اس مضمون کو لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ” ہر پاکستانی کرکٹ شائقین جو اس سیریز کا لطف اٹھانے ہندوستان آئے گا اس پر اس وقت تک نظر رکھی جائے گی جب تک وہ یہاں سے واپس نہیں چلاجاتا ہے ۔کیونکہ سابق میں کرکٹ میچ دیکھنے آئے پاکستانی باشندے یہاں آکر گم ہوچکے ہیں جنہیں ہماری سیکورٹی ایجنسیاں اب تک نہیں ڈھونڈپائی ہیں۔“
وزارت داخلہ کے افسر کا یہ بیان اپنے آپ میں نہ صرف ایک بیان ہے بلکہ اس میں دو باتیں پوشیدہ ہیں۔ اولاً یہ کہ اس سے ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی اور بے بسی کا پتہ چلتا ہے کہ 120کروڑ ہندوستانی عوام کی سیکورٹی جس ایجنسی کے سپرد ہے اور جس پر سالانہ کروڑوں روپے صرف ہوتے ہیں ا نہیں وہ چند پاکستانی لوگ بھی چکمادے کر ان کی نظر سے پوشیدہ اسی ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ اسے ہندوستانی سیکورٹی ایجنسی کی بے بسی کہیں یا غفلت یا مجبوری کہ وہ جس کام کے لئے وجود میں آئی ہے وہ کام ہی وہ انجام نہیں دے پارہی ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس سے ہر ہندوستانی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا جب سیکورٹی ایجنسی خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ چند وہ افراد جن کے تعلق سے یہ پتہ بھی ہے کہ وہ ہندوستانی ویزا پر ہندوستان آیا تو ضرور ہے لیکن واپس گیا نہیں تو آخر وہ ہے کہاں؟تو پھر اس سیکورٹی کے کیا معنی؟ ےایہ کہ اس کی کیا ضرورت رہ گئی کہ جس پر عام عوام کی جیب سے لیا گیا پیسہ صرف کیا جائے۔
اس تعلق سے دوسرا پہلو نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ ہندوستانی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تعلق سے نفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ ہماری جس سیکورٹی ایجنسی کو معدودے چند پاکستانیوں کا ہندوستان میں پتہ ڈھونڈنا مشکل ہے وہی سیکورٹی ایجنسیاں یکایک کیسے اتنی فعال، ایماندار اور جاذب ہوجاتی ہے کہ ادھر بم دھماکہ ہوا اور اگلے چند گھنٹوں میںاسے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں لشکر طیبہ ، ہوجی ، سیمی اور حزب المجاہدین کا ہاتھ ہے ۔اس ایجنسی میں اتنی چستی اور پھرتی کیسے آجاتی ہے کہ ادھربم دھماکہ ہوا اور اگلے دو چار گھنٹے میں ہی کشمیر سے کنیاکماری تک چھان مار کر دوچار مسلمانوں کو گرفتار کر کے اپنی پیٹھ تھپتھپانے لگتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جس سیکورٹی ایجنسی کو پاکستانیوں کا اتا پتہ نہیں ہوتا اسے بہار کے مدھوبنی، دربھنگہ، سیتا مڑھی ، اترپردیش کے اعظم گڑھ اور مہاراشٹر کے مالے گاﺅں میں ہر ایک مسلم چہرہ دہشت گرد نظر آتا ہے۔ آخر سیکورٹی ایجنسی اس طرح کا عمل کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ کیا اس کے احتساب کا وقت نہیں آیا کہ وہ خود اپنے گریبان میں جھانکے اور خود احتساب کرے کہ آیا ایک معرکہ پر تو ہم ایسے بے بس، لاچار اور بے حس نظر آتے ہیں کہ لوگوں کو ہم پر ترس آتا ہے اور دوسری جانب جب بات مسلمانوں کے تعلق سے آتی ہے تو یکایک ہم میں اتنی چستی اور پھرتی کیسے آجاتی ہے کہ ہم شک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگتے ہیں۔ یہاں سوال سیکورٹی ایجنسی کی کامیابی اور ناکامی کا نہیں ہے بلکہ اس کی گندی اور فرقہ پرست ذہنیت کا ہے جو نہ صرف مسلمانان ہند کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ ملک ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ لئے ہے اس کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ نظام کی سطح پر اس جانب غیر جانبداری، ایمانداری اور انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے ذہنیت کو مثبت سمت دی جائے ورنہ وہ دن دور نہیں جب ناانصافی ، عدم مساوات اور فرقہ پرست ذہنیت ملک ہندوستان کا بیڑا غرق کر کے اس کی شناخت کو ثبوتاز کردے گی۔
merajnoorie.blogspot.com
+919013194626
Subscribe to:
Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...











