نزد سٹی اسٹیشن واقع سلطنت منزل،حامدروڈ،لکھنو ¿ میںہوئی ایک اہم میٹنگ میں رائل فیملی کے نواب زادہ سید معصوم رضا (ایڈوکیٹ) نے کہا کہ نوابوں وتہذیب کے شہر لکھنو ¿ کو صدیوں سے نزاکت ونفاست کا شہر ماناجاتارہا ۔ یہاں کی بولی ،بات چیت ،ادب وآداب وبات کرنے کے انداز لوگوں کے دلوںمیںاترجاتی ہے۔سادگی وبھائی چارہ لکھنو ¿ کی خاص پہچان رہی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لکھنو ¿ کی تصویربھی تیزی سے بدلتی جارہی ہے۔نواب زادہ سید معصوم رضا نے آگے کہا کہ تیز رفتار زندگی کی دوڑ نے لکھنو ¿کے پرانے روایت کو نگل لیاہے۔پہلے آپ پہلے آپ کی جگہ پہلے ہم کی سوچ کام کرنے لگی ہے۔بھائی چارہ کانام ونشان مٹتاجارہاہے۔ لوگوں کی بول چال میںکافتی بدلاو ¿آگیا ہے اورزیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کی ہوس بڑھتی جارہی ہے۔مغربی پہناوے سے لوگ اس قدر مرعوب ہیں کہ شرم وحیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔اپنے سے بڑے لوگوں کی عزت کرنا اب گزرے زمانے کی بات ہوتی جارہی ہے ۔لوگوں کی زندگی میں آئے بدلاو ¿ سے لکھنو ¿ کی پرانی پہچان مٹتی جارہی ہے ۔ شہر کی آب وہوا چھنتی جارہی ہے اور کھلی جگہ میں سانس لینا شاید کچھ دنوں میں ایک خواب بن کر رہ جائیگا۔نواب زادہ سید معصوم رضا نے مزید کہا کہ پورا شہر کنکریٹ کا جنگل بنتاجارہاہے اور درختوںکی کٹائی برابر جاری ہے۔ہریالی کا نام ونشان مٹتاجارہاہے۔وہ بڑے بڑے پیپل، برگد،آنولہ،نیم ،املی وآم کے درخت اب شہروںمیں کہیں نظرنہیں آتے۔ سڑکوں کے کنارے جھاڑی نما پودے لگائے گئے ہیں۔ ان پودوں سے نہ تو چھاو ¿ں ملتی ہے اور نہ ہی ماحولیا ت میں آکسیجن کی تعداد بڑھانے میں ان کا کوئی تعاون رہتاہے۔
نواب مرزا عسکری حسن نے کہا کہ چاروں طرف بڑی بڑی بلڈنگس بنتی جارہی ہے۔ سارا شہر ہورڈنگ وپوسٹروں سے پٹاپڑاہے ۔ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہے ۔ یہ سب اسی طرح اگر چلتارہا تو شہر میںتھوڑی سی کھلی جگہ بھی نہیں بچے گی ۔ بڑے بزرگ جب کہیں آپس میںملتے ہیں تو پرانی یادوں میں کھوجاتے ہیںاوروہ ان لمحوں کو ڈھونڈتے ہیں جو اب لوٹ کرآنے والانہیں ہے۔وقت کے ساتھ ہی پرانے لکھنو ¿ کی تہذیب صرف یادوں میں رہ گئی ہے۔

No comments:
Post a Comment