Sunday, August 19, 2012

Saturday, August 18, 2012

Thursday, August 9, 2012

امریکہ میں سکھوں پر حملوں کی وجہ



جب کئی برسوں کے بعد پہلی بار میں نیویارک آیا تو ایک شام ایمسٹرڈم ایونیو پر جس راہ گیر سے میں نے لنکن سینٹر کے ایک تھیٹر کا پتہ پوچھا تھا تو وہ ایک سکھ تھا۔ابھی یہ سکھ راہ گیر میرا پوچھا ہوا پتہ بتانے کے لیے رکا ہی تھا تو اس کے آگے ایک وین نے آکر بریک مارا اور اس میں بیھٹے ہوئے مقامی نوجوانون نے اس سکھ راہ گیر اور اس کے ساتھی پر آوازے کسے ’بن لادن‘ اور یہ جا وہ جا، وین فراٹوں میں غائب۔۔۔امریکہ میں جب سے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویار ک اور واشنگٹن پر پر دہشتگردانہ حملے ہوئے تھے تب سےسکھ جن کا اس سے نہ لینا نہ دینا زبانی اور جسمانی حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ ان کا قصور؟ان کا قصور ان کی وضع قطع و تراش خراش ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح پاکستان کے شہرکوئٹہ سمیت بلوچستان میں ہزارہ برادرری کے لوگوں کا قصور ان کی شکل و شباہت یا منگول فیچرز ہیں۔ستمبر دو ہزار ایک کے بعد متواتر سکھ امتیازی سلوک یا تشدد کے حوالے سے نشانے پر ہیں جس کی اک مثال سکھ حقوق کی تنظیم ’سکھ کولیشن‘ کی وہ رپورٹ ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار ایک سے لے کر اب تک ان کی تنظیم سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک و تشدد کی ایک ہزار شکایات وصول کرچکی ہے۔دو ہزار ایک کے ستمبر سانحے کے بعد کیلیفورنیا، جہاں تمام امریکہ میں سب سے زیادہ سکھ آبادی ہے وہاں پر بسوں اور ٹرنیوں پر ریاستی انتظامیہ کی طرف سےنفرت پر مبنی جرائم کے خلاف اشتہار لگایا گیا جس میں شلوار قمیض پہنے ایک جنوبی ایشیائی خاتون کو دکھایا گیا تھا اور اس کے ساتھ تحریر تھا پہلے انہوں نے مجھے روکا پھر وہ مجھ پر چلائے اور کہا ’اپنے گھر (ملک) واپس جاو ¿‘۔ستمبر دو ہزار ایک کے بعد متواتر سکھ امتیازی سلوک یا تشدد کے حوالے سے نشانے پر ہیں جس کی اک مثال سکھ حقوق کی تنظیم ’سکھ کولیشن‘ کی وہ رپورٹ ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار ایک سے لے کر اب تک ان کی تنظیم سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک و تشدد کی ایک ہزار شکایات وصول کرچکی ہے۔گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کےبعد تیرہ ستمبر کو ایریزونا ریاست میں پہلا شکار ایک گیس اسٹشین کا مالک بلبیر سنگھ سوڈھی تھا جس پرایک مقامی سفید فام نوجوان نے حملہ کر کر اسے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔ بلبیر سنگھ کے مبینہ قاتل نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ میڈیا پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشتگرد حملے کی فوٹیج بار بار دیکھنے کے بعد عربوں کو ختم کرنے نکلا تھا۔حملہ آور نعرے مارتا رہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ امریکہ کیلیے کر رہا ہے۔حال ہی میں امریکی ریاست وسکنسن میں ایک گوردوارے پر فائرنگ میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔کئی سکھوں کو مارا پیٹا گیا، کئی کو شدید زخمی کیا گیا ان کے گ ±ردواروں، دکانوں، ریستورانوں اور شراب کی دکانوں پر حملے ہوئے۔ ابھی صرف گذشتہ سال دو ہزار گیارہ میں کیلیفیورنیا کے سانتا کلارا میں دو بزرگ سکھوں پر چھریوں سے حملے ہوئے۔ان کئی حملوں میں حملہ آوروں نے نعرے لگائے، چیخے چلائے، جشن کرتے گئے کہ انہوں نے ’طالبان‘ ، اور ’بن لادن ‘ کو مارا ہے۔اگرچہ ان میں کئی مقدمات کے ملزمان کو عدالتوں سے سخت سزائیں بھی سنائیں جن میں بلبیر سنگھ سوڈھی کے قاتل کو سزائے موت جو پھر عمر قید میں بدل دی گئی شامل ہے لیکن سکھوں پر تشدد کے واقعات متواتر سننے میں آتے رہے۔نیویارک میں سکھوں کیلیے انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی تنظیم سکھس فارس جسٹس کے ایک نوجوان وکیل نے ایک مقامی امریکی کے حوالےسے بتایا کہ ’ستمبر دو ہزار ایک یا اس کے بعد تک بھی ہم یہ سمجھتے تھے کہ سکھ وہ ہندو ہیں جو مسلمان ہوتے ہیں۔‘جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو ہزار ایک میں ایک شراب کی دکان کے اس سکھ مالک کو بھی طالبان سمجھ کر پیٹا گیا جس نے اپنے سر پر امریکی جھنڈے کی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔تارکین وطن کا ملک کہلانے والے امریکہ میں سکھ جنوبی ایشیائی تارکین وطن میں سب سے قدیم آبادی ہے جو بسیویں صدی کی شروعاتی دہائی میں شمالی امریکہ پہنچے تھے۔ سان فرانسسکو میں پہلے سکھ جلاوطنوں کی یاد میں غدر پارٹی ہال آج بھی موجود ہے۔لیکن سکھوں کی امریکہ میں سب سے بڑی آبادی انیس سوچوراسی میں سابق وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل یا اس سے پہلے گولڈرن ٹمپل جیسے واقعات میں ان کے خلاف تشدد سے بھاگ کر آنیوالوں کی ہے۔ بقول میرے ایک وکیل دوست کے سال انیس سو چوارسی سے لیکر اٹھانوے تک نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر جنوبی ایشیائی ملکوں کی ایسی کوئی پرواز نہیں تھی جس میں روزانہ چار پانچ سکھ نہ اترتے ہوں۔اور سکھوں کو اب امریکہ میں بھی مقامی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کیلیے سی این این نے کہا کہ امریکہ کومقامی دہشتگردی سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا القائدہ سے ہے۔


Tuesday, August 7, 2012

اب صرف یادوں میں سمٹ گیاشہر لکھنو


نزد سٹی اسٹیشن واقع سلطنت منزل،حامدروڈ،لکھنو ¿ میںہوئی ایک اہم میٹنگ میں رائل فیملی کے نواب زادہ سید معصوم رضا (ایڈوکیٹ) نے کہا کہ نوابوں وتہذیب کے شہر لکھنو ¿ کو صدیوں سے نزاکت ونفاست کا شہر ماناجاتارہا ۔ یہاں کی بولی ،بات چیت ،ادب وآداب وبات کرنے کے انداز لوگوں کے دلوںمیںاترجاتی ہے۔سادگی وبھائی چارہ لکھنو ¿ کی خاص پہچان رہی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لکھنو ¿ کی تصویربھی تیزی سے بدلتی جارہی ہے۔نواب زادہ سید معصوم رضا نے آگے کہا کہ تیز رفتار زندگی کی دوڑ نے لکھنو ¿کے پرانے روایت کو نگل لیاہے۔پہلے آپ پہلے آپ کی جگہ پہلے ہم کی سوچ کام کرنے لگی ہے۔بھائی چارہ کانام ونشان مٹتاجارہاہے۔ لوگوں کی بول چال میںکافتی بدلاو ¿آگیا ہے اورزیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کی ہوس بڑھتی جارہی ہے۔مغربی پہناوے سے لوگ اس قدر مرعوب ہیں کہ شرم وحیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔اپنے سے بڑے لوگوں کی عزت کرنا اب گزرے زمانے کی بات ہوتی جارہی ہے ۔لوگوں کی زندگی میں آئے بدلاو ¿ سے لکھنو ¿ کی پرانی پہچان مٹتی جارہی ہے ۔ شہر کی آب وہوا چھنتی جارہی ہے اور کھلی جگہ میں سانس لینا شاید کچھ دنوں میں ایک خواب بن کر رہ جائیگا۔نواب زادہ سید معصوم رضا نے مزید کہا کہ پورا شہر کنکریٹ کا جنگل بنتاجارہاہے اور درختوںکی کٹائی برابر جاری ہے۔ہریالی کا نام ونشان مٹتاجارہاہے۔وہ بڑے بڑے پیپل، برگد،آنولہ،نیم ،املی وآم کے درخت اب شہروںمیں کہیں نظرنہیں آتے۔ سڑکوں کے کنارے جھاڑی نما پودے لگائے گئے ہیں۔ ان پودوں سے نہ تو چھاو ¿ں ملتی ہے اور نہ ہی ماحولیا ت میں آکسیجن کی تعداد بڑھانے میں ان کا کوئی تعاون رہتاہے۔
نواب مرزا عسکری حسن نے کہا کہ چاروں طرف بڑی بڑی بلڈنگس بنتی جارہی ہے۔ سارا شہر ہورڈنگ وپوسٹروں سے پٹاپڑاہے ۔ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہے ۔ یہ سب اسی طرح اگر چلتارہا تو شہر میںتھوڑی سی کھلی جگہ بھی نہیں بچے گی ۔ بڑے بزرگ جب کہیں آپس میںملتے ہیں تو پرانی یادوں میں کھوجاتے ہیںاوروہ ان لمحوں کو ڈھونڈتے ہیں جو اب لوٹ کرآنے والانہیں ہے۔وقت کے ساتھ ہی پرانے لکھنو ¿ کی تہذیب صرف یادوں میں رہ گئی ہے۔

Friday, August 3, 2012

جمہوریت و خلافت:صلاحیت و صالحیت


ڈاکٹر سلیم خان
ملوکیت کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس میں شاہی خاندان کے افراد کو اقتداروراثت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اقتدار کے حصول میں ان کے اندر پائی جانے والی صلاحیتوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی نااہلی اس راہ میں حائل ہوتی ہے۔ جمہوریت کا دعویٰ ہے کہ اس کے یہاں یہ کمزوری نہیں پائی جاتی ۔ نظری سطح پر اگر یہ بات درست بھی ہو تب بھی عملاً اس میں کس قدر سچائی ہے یہ تحقیق طلب موضوع ہے۔ مثلاً پاکستانی جمہوریت کے اندربعد از انتخاب اکثریتی جماعت کا ایک بدنام ِ زمانہ بدعنوان شخص محض اپنی رشتہ داری کے باعث صدارت کے عہدہ پر فائز ہوگیا۔اب اسے بچانے کی خاطر عوام کاایک منتخب شدہ وزیر اعظم بلی کا بکرا بن گیا اور دوسرا مذبح خانے کی جانب ہانکا جارہا ہے لیکن اس بدعنوان صدر کے آگے جمہوری نظام بے دست و پا ہے۔ جمہوریت نواز یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کیا جانے جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے ؟ وہاں کا جمہوری نظام ناقص ہے اس لئے اس کی مثال دینا مناسب نہیں ہے۔ چلئے مان لیا ہندوستان تشریف لائیے جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر فخر ہے۔
سارے جہاں سے اچھے ہندوستان کے اندر ابھی حال میں صدارتی انتخاب کا انعقاد ہوا جس میں حزب اختلاف کے کئی ارکان نے اپنے امیدوار پی اے سنگما کے خلاف پرنب مکرجی کو ووٹ دیا۔ اب اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ ایسا ضمیر کی آواز پر کیا گیا تو اس بیچارے کو یہ نہیں پتہ کہ ہمارے سیاست دانوں کا ضمیرکب کا مر چکا ہے۔اب جس چیز کا وجود ہی نہ ہو اس کی آواز اگر آئے بھی تو کیسے ؟اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ نظریاتی بنیادوں پر کیا جانے والایہ انفرادی فیصلہ ہے تو وہ نہیں جانتا کہ نظریاتی حیثیت سے پرنب اور سنگما کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا جاتا نیز جن سیاستدانوں کو دولت کے علاوہ کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی ہو ان سے نظریات کی پاسداری چہ معنی دارد۔ان دونوں متبادل کے بعد وہی ایک وجہ باقی رہ جاتی ہے جو کہ اصل حقیقت ہے۔ ان لوگوں نے اپنے ووٹ کو نوٹ کے بدلے فروخت کر دیا۔ جس ملک میں عوام کے نمائندے اپنی رائے بیچنے سے گریز نہیں کرتے وہاں عام آدمی اگر ایسا کرتا ہے تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔نیز جس رائے عامہ کو زر خرید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بدل دیا جاتا ہو اورعوام و خواص کی حمایت کو روپیوں کے عوض خرید لیا جاتاہو اسے سرمایہ داری تو کہا جاسکتا ہے لیکن جمہوریت نہیں یہ اور بات ہے کہ فی الحال ان دونوں نے مل جل کر اپنا گھر بسا لیا ہے۔
پرنب داکے صدرِ مملکت بن جانے سے ان کا اپناایک فائدہ تو یہ ہوا کہ تمام بدعنوانی کے الزامات سے تحفظ حاصل ہو گیا اور اسی کے ساتھ جمہوری نظام کے اندر موجود عدم مساوات کا راز بھی فاش ہوگیا اور تو اور انا ہزارے نے بھی جو بدعنوانی کے خلاف تاحیات بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں پرنب مکرجی کو نہ صرف کلین چِٹ بلکہ مبارکباد کا پیغام بھی دے دیا۔ اگر پرنب یوپی اے اور این ڈی اے کے مشترکہ امیدوار ہوتے تو شاید یہ بات اروند کیجریوال کے گلے سے اتر جاتی لیکن چونکہ بی جے پی نے ان کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کر دیا تھا اس لئے یہ مسئلہ انا جی کی ٹیم کے اندر اختلاف کا سبب بن گیا۔پرنب دا جب تک وزیر خزانہ رہے انہوں نے وزیر اعظم کو لوک پال سے ماوراء رکھنے کی بھرپور وکالت کی اور جاتے جاتے مخالفین میں پھوٹ ڈال کر ان کا بھلا کر گئے۔
پرنب مکرجی کے صدر بن جانے کے بعدراہل گاندھی کے راستہ کی ایک رکاوٹ دور ہوگئی اور اب دگوجئے سنگھ نے ان کو بڑی ذمہ داری دینے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں پھیلارہے ہیں۔ فی الحال کانگریس پارٹی کا سب سے بڑا بھوپوںسنگھ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔پرنب مکرجی ویسے تو ملک کے وزیر خزانہ تھے لیکن پارلیمان کے اندر حکومت کا دفاع اور باہر مخالفین سے پنجہ آزمائی ان کی اہم ذمہ داریاں تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان دونوں محاذپربڑی خوبی سے انہوں نے اپنے کام سر انجام دیا۔وہ ایوان زیریں میں کانگریس کےرہنما کی حیثیت سے نااہل وزیر پارلیمانی امور اور باہر بد عنوان وزیر داخلہ کا متبادل بنے رہے۔پرنب کی بہترین کارکردگی کے انعام میں انہیں ربر اسٹامپ بنادیا گیااوران کے اہم ترین قلمدان کو جس انداز میں پ ±ر کیا گیا اس سے جمہوریت کی جانب سے کئے جانے والے صلاحیت اور اہلیت کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھل گئی۔
شمالی و مشرقی ہنددنیا کے سب سے بڑا بجلی سانحہ کی زدمیں تھا ۔ ۲۲ ریاستوں کے۳۳ کروڈ عوام کو اس نے پریشان کر رکھا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا جس وزیر توانائی کے زیرِ نگرانی یہ سنگین صورتحال رونما ہوئی اس سے فی الفور استعفیٰ طلب کرلیا جاتا بلکہ اس کی نااہلی کے باعث عوام کو ہونے والی دشواریوں کے پیشِ نظر اسے جیل بھیج دیا جاتا لیکن بد قسمتی سے سشیل کمار شندے کا شمار فی الحال گاندھی خاندان کے سب سے زیادہ وفادار لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق دلت ذات سے ہے اور کانگریس کویہ غلط فہمی ہے کہ وہ دلت ووٹرس کومایا وتی سے توڑ کانگریس کی جھولی میں لے آئیں گے اس لئے انہیں ترقی دے کر وزیر داخلہ بنا دیا گیا گویا حکومت میں دوسرے نمبر کی سب سے اہم ذمہ داری پر ایک ایسے شخص کو فائز کیا گیا جس کی نااہلی کا سورج بڑی شان سے چمک رہا تھا اور ملک کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔وزارتِ توانائی میں ہوتے ہوئےجو شخص اجالا نہیں پھیلا سکا وہ وزیر داخلہ بن جانے کے بعد ملک میں کس قدر تاریکی پھیلائے گا اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کی ۰۲۱ کروڈ عوام میں ایک آدمی بھی شندے سے زیادہ اہل نہیں ہے اور اگر ہے تو یہ اہلیت کا دعویدار نظام اس کو کیوں نظر انداز کرتا ہے ؟
سیاست کی معمولی شد بد رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ وزیر داخلہ کا قلمدان وزیر خزانہ سے زیادہ اہم ہے۔اس کے باوجود آخرچدمبرم نے اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ پر اکتفا کیوں کیا؟ اگر یہ ان کی نااہلی کی سزا ہے تو بہت کم ہے۔ آسام میں جس قدر حفاظتی دستوں کی ضرورت تھی اس کی عدم فراہمی کا اعتراف خود کانگریسی وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے کیا ہے۔اس کوتاہی کیلئے براہِ راست وزیر داخلہ ذمہ دار ہے۔اسی لئے چدمبرم کے دور آسام کے دوران مختلف کیمپوں میں ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ یہ شیو راج پاٹل سے بڑی نااہلی تھی اس لئے انہیں بھی گھر بھیج دیا جانا چاہئے تھا۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آسام میں ۵۶ معصوموں کی ہلاکت اور ۴ لاکھ لوگوں کے امدادی کیمپوں میں پناہ گزین ہونے کا اعتراف جس روز چدمبرم نے کیا اسی روز قومی خزانے کی کنجیاں ان کے حوالے کر دی گئیں۔ کیا یہی اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد ہر ذمہ داریوں کی تقسیم کا طریقہ کارہے ؟
 چدمبرم جیسا نااہل اور خر دماغ وزیر داخلہ ہندوستان کی تاریخ میں کوئی اور نہیں گزرا ہوگا۔ مسلمانوں کے ساتھ جس بے اعتنائی کا رویہ اس شخص نے اختیار کیا ایسا تو شاید اڈوانی نے بھی اپنے دورِ وزارت میں نہیں کیا ہوگا۔ وہ لوگ کم از کم دکھاوے کی خاطرمروت کا اظہار کر دیتے تھے لیکن یہ تو اپنے کبر وغرور کے نشہ میں کچھ سننے کا روادار نہیں تھا۔ خود اپنی جماعت کی جانب سے مدعو مسلم رہنماو ¿ں کے وفد سے جو شخص یہ کہتا ہے آپ کس کی نمائندگی کرتے ہیں میں نہیں جانتا وہ عام مسلمانوں سے کیسا رویہ اختیار کرتا ہوگا اس کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔جو اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ تحفظ ہے اورمعصوم مسلم نوجوانوں کوبیجا گرفتاریاں عمل میں آرہی ہیں وہ بھلا ان گرفتاریوں کو کیسے روکے گا اور ملت کو تحفظ کیونکر مہیا کرے گا ؟ لیکن بہر حال مشیت نے اسے مجبور کیا کہ وہ ازخود وزارت داخلہ کے اہم ترین قلمدان سے دستبردار ہوجائے۔
 چدمبرم اگر چاہتے تو سونیا گاندھی سے کہہ کر اپنا قلمدان محفوظ رکھوا سکتے تھے۔ اس صورت میں سشیل کمار شندے کو وزیر خزانہ بنا دیا جاتا۔ شندے کیلئے وزارتِ خزانہ بھی فائدے ہی کا سودا تھا اور وہ اسے بخوشی قبول کر لیتے لیکن اپنے بدعنوانی کے معاملات پر قابو پانے کیلئے چدمبرم پرانے شعبہ میں واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ چدمبرم پر لگنے والے بدعنوانی کے سارے بڑے الزامات اس دور کے ہیں جب وہ وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے۔ وزارتِ خزانہ کی فائلوں میں ایسے بے شمار ثبوت دفن ہیں جن کی بنیاد پر چدمبرم کو اےراجہ کے ساتھ تہاڑ جیل میں چکی پیسنے کیلئے جانا پڑسکتا ہے۔ کرپشن میں نہ صرف وہ بلکہ ان کا لڑکا کارتک بھی ملوث پایا گیا ہے۔ اپنے خلاف شواہد کو مٹانے کی خاطر چدمبرم نے بادلِ ناخواستہ ایک پائیدان نیچے اترنے کی رسوائی گوارہ کرلی ہے۔
چدمبرم کے وزیر خزانہ بن جانے سے عوام میں کوئی جوش و خروش دکھلائی نہیں دیا اس لئے کہ وہ حکومت کی جانب سے کسی بھی خیر و فلاح کی توقع نہیں رکھتے۔ لیکن صنعت و حرفت کی دنیا میں خوشی کی لہر ضرور دوڑ گئی اس لئے کہ ان کا وہ پرانا دوست لوٹ آیا جسے کھلا پلا کر قومی خزانے کو جی بھر کے لوٹا جاسکتا ہے۔چدمبرم اور ان کے بیٹے کارتک پر نہ صرف مواصلاتی گھپلوں میں بلکہ اسلحہ کی دلالی میں ملوث ہیں بلکہ سیوا گنگا میں اپنے آپ کو کامیاب کروانے کیلئے وزیر داخلہ کی حیثیت سے نتائج پر اثرانداز ہونے کی انتخابی بدعنوانی کابھی ان پر الزام ہے۔
ملک میں فی الحال لوک پال کے حوالے سے بدعنوانی کے خلاف ایک تحریک چل رہی ہے ایسے میں انڈیا اگینسٹ کرپشن نامی تنظیم نے ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی وزارت میں شامل ۵ ۱ وزراء کے خلاف سنگین بدعنوانی کے معاملات کی تفصیل درج ہے۔ ان وزراء میں خود منموہن سنگھ اور پرنب مکرجی کا نام بھی شامل ہے جو اب صدرِ مملکت ہیں۔ یہ کوئی اناہزارے یا بابا رام دیو کا جذباتی بیان نہیں ہے بلکہ بڑی تفتیش و تحقیق کے بعد تیار کی گئی ایک۹۷ صفحات پر مشتمل رپورٹ ہے جس میں ہربات ٹھوس حوالہ جات کے ساتھ درج ہے۔ان میں اخباری تراشوں یا سیاسی بیان بازی کے بجائے سرکاری مراسلت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس دستاویز میں سب سے زیادہ۵۲ صفحات چدمبرم کیلئے مختص ہیں اور دوسرے نمبر پر سشیل کمار شندے ہیں جن کے الزامات۲۱صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔اور انہیں دونوں کو اہم ترین وزارتوں سے نواز کر حکومت نہ صرف صلاحیت اور صالحیت کے بارے اپنا موقف واضح کردیا بلکہ بدعنوانی اس کے نزدیک کس قدر غیر اہم ہے یہ بھی جتا دیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بظاہر مختلف نظر آنے کے باوجود یہ سارے باطل نظامہائے سیاست مثلاً ملوکیت ،آمریت اور جمہوریت عملاً کیوں ایک جیسے ہو جاتے ہیں اور دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ وہ کون سی شہ ہے جو خلافت کو ان سے ممتاز کرتی ہے ؟ اس بابت اگر علامہ اقبال سے رجوع کیا جائے جواب ملے گا فقر۔ عام طور پر فقر کو رہبانیت کے ہم معنی ٰ سمجھا جاتا ہے لیکن بقول حکیم الامت 
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی   تری نگاہ میں ہے ایک فقر و راہبانی
 سکوں پرستی راہب سے فقر ہے بیزار   فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ ط ±غیانی
اقبال نے اپنی فارسی شاعری میں اس موضوع پر بڑا کلام کیا ہے ایک جگہ وہ کہتے ہیں کافر کا فقر جنگل اور بیابان میں نکل جانا یعنی رہبانیت ہے مگر مومن کا فقر بحرو بر پر لرزہ طاری کر دیتا ہے، مومن کا سکون جنگل میں نہیں ہے بلکہ اس کیلئے پروقار شہادت کی موت زندگی کا دوسرا نام ہے،کافرترک بدن کر کے خدا کو ڈھونڈتا ہے وہ خودی کو مارتا جلاتا ہے جبکہ مومن اپنی خودی کو حق کی سان پر چڑھاکرچراغ کی مانند روشن کرتا ہے۔اقبال کی نظر میں مومن کا فقر کائنات کو مسخر کرنے کے ہم معنی ٰٰہےوہ فقرِ کافر اور فقرِ مومن میں اس طرح فرق کرتے ہیں کہ 
اِک فقر سکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری  اِک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہاں گیری
فقر و اقتدار ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں اگرفقر کو اقتدار سے محروم کر دیا جائے تو وہ رہبانیت بن جاتا ہے اور اگر اقتدار میں سے فقر کو کم کر دیا جائے تو وہ باطل نظام ِ سیاست کی مختلف شکلوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر لیتا ہے جن میں جمہوریت بھی شامل ہے لیکن اگر اقتدار کے ساتھ فقر کو یکجا کر دیا جائے تو خلافت علیٰ منہاجِ نبوت کا قیام عمل میں آتا ہے۔ سارے باطل سیاسی نظاموں کے اندر مشترک یہی فقر کا عدمِ وجود ہے جو ہوسِ دنیا کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس کے برعکس خلافت کے دامن میں فقر کی موجودگی اسے دنیا سے بے نیاز کر کے اللہ کا نیاز مند بنا دیتی ہے بقول اقبال 
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ   فقر ہے میروں کا میر ، فقر ہے شاہوں کا شاہ
علم ہے جویائے راہ ، فقر ہے دانائے را ہ  فقر مقام نظر ، علم مقام خبر
رسول اکرم ﷺنے فرمایا”مال ومتاع کی کثرت کانام استغنانہیں بلکہ استغناکا مطلب نفس کا مستغنی ہونا ہے ”استغنا بھی دل میں ہوتاہے اور فقر بھی دل ہی میں ہوتاہے“حضرت علیؓ کا قول ہے ”غنی وہ ہے جو قناعت کے باعث مستغنی ہو“ بد قسمتی سے دیگر نظامہائے باطل کی طرح جمہوری نظام ِ سیاست بھی اس عنصر سے یکسر محروم ہے۔اسی لئے اس نظام میں بھی عوام غریب سے غریب ترین اور ان کے نمائندے امیر سے امیر ترین ہوتے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر امت مسلمہ اپنے آپ کو ذلت و رسوائی سے نکال کر عظمت و بلندی پر فائز کرنا چاہتی ہے تو یہ مقصد جلیل کسی باطل نظام ِحیات کو اپنانے یا فروغ دینے سے حاصل نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کیلئے ہمیں اپنےبازو میں حیدرکا زور،دل میں ابوذر کا فقر اور زبان کوسلمان کےصدق سے متصف کرنا ہوگا اس لئے کہ یہی وہ صفات ہیں جو استبدادی قوّتوں کے چنگل سے انسانوں کو آزاد کراسکتی ہیں اوراسی سے حریّت ، اخوّت اور مساوات پر مبنی عالمگیر معاشرہ کا قیام عمل میں آسکتا ہے 
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے   وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بو ذر، صدق سلمانی

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...