Saturday, June 2, 2012

حسنی مبارک: عرش سے فرش تک ۔۔۔
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو گذشتہ سال ہوئے احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین کو جان سے مارنے کے واقعات سے متعلق ہونے کا مجرم پایا گیا ہے۔ فروری 2011 میں مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔ مصر کے 82 سالہ سابق صدرحسنی مبارک تقریبا 30 سال تک اقتدار میں رہے اور اس طرح انہوں نے عرب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی قیادت کی۔ کسی نے بھی شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ 1981 میں انور سادات کے قتل کے بعد نائب صدر کے عہدے پر موجود بہت ہی کم جانے پہچانے نام حسنی مبارک کو صدر کا عہدہ سونپا جائے گا اور وہ اتنے سالوں تک ملک کی کمان سنبھالے رہیں گے۔ ان کے 30 سال کے دورمیں ایمرجنسی سے حالات رہے کیونکہ کہیں بھی پانچ سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی تھی۔ انور سادات کا قتل اسلامی شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران کر دیا تھا اور مبارک خوش قسمترہے تھے کہ انہیں گولی نہیں لگی۔ حالانکہ وہ اس وقت ان کے بغل میں موجود تھے۔ اس کے بعد سے کم سے کم ان پر چھ بار جان لیوا حملے ہو چکے ہیں اور وہ ان میں بچ گئے۔ وہ اس وقت بال بال بچے تھے جب 1995 میں افریقی ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے اتھوپےا گئے تھے اور ان کی کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ گولیوں کو چھکانے کے ہنر میں ماہر سابق فضائیہ کمانڈر مبارک مغربی ممالک کے قابل اعتماد ساتھی رہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے ملک میں طاقتور اپوزیشن کو شکست دےنےمیں کامیاب رہے لیکن ملک میں جاری اتھل پتھل، علاقائی اثرات میں کمی، گرتے صحت اور غیر معینہ جانشین کے پیش نظر یہ سوال ہونے لگا تھا کہ مبارک کتنے دن اور اقتدار کو چلانے میں کامیاب رہیں گے۔ پھر قاہرہ اور دیگر شہروں میں اپنے خلاف جاری مظاہرے کے دوران انہوں نے ایک فروری کو ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ قاہرہ کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاو¿ں میں چار مئی 1928 میں پیدا ہوئے مبارک نے اپنی ذاتی زندگی کو عوام سے دور رکھا۔ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے مبارک نے 1949 میں مصر کی ملٹری اکےڈمی سے گرےجوےشن کیا اور 1950 میں فضائیہ میں شامل ہوئے۔مصر کی فضائیہ کے کمانڈر اور دفاعی محکمہ کے نائب وزیر کی حیثیت سے اسرائیل پر حیرت انگیز والا حملہ کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل نے مصر کے اےکعلاقے پر قبضہ کر رکھا تھا اور یہ 1973 جنگ کے دوران ہوا تھا۔ ان کی کوششوں کا پھل انہیں دو سال بعد اس وقت ملا جب انور سادات پر نائب صدر مقرر کرنے کا دباو¿ پڑنے لگا اور سادات نے مبارک کو اپنا نائب صدر بنایا۔ انہوں نے قاہرہ سے گریجویشن کرنے والی ایک لڑکی سوزےن سے شادی کی جو نسل سے آدھی برطانوی تھیں۔ ان کے دو بیٹے جمال اورعلا ہیں۔ وہ ایک ڈسپلن کی زندگی گزارتے رہے اور ان کی روز مرہ زندگی یقینی پروگرام کے تحت صبح چھ بجے سے شروع ہوتی تھی۔ انہوں نے نہ تو کبھی سگریٹ کا استعمال کیا اور نہ ہی شراب کو ہاتھ لگایا۔ ان کے بارے میں مشہور رہا کہ وہ پوری طرح سے فٹ ہیں اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ اپنی جوانی کے زمانے میں وہ صبح کا آغاز تھوڑے ورزش یا اسکوائش کے ساتھ کرتے تھے، ان کے قریب ترین لوگوں کو صدر کے روزانہ پروگرام سے شکایت رہتی تھی۔ حسنی مبارک کو انور سادات کے قتل کے آٹھ دنوں کے بعد 14 اکتوبر 1981 کو صدر کے عہدے کا حلف دلاےا گےا۔ صدر بننے سے پہلے کم مقبول اور بین الاقوامی سطح پر کم حیثیت رکھنے والے اس طاقتور فوجی نے سادات کے قتل کے اسباب کا ٹھیک سے استعمال کیا اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بڑے سفارت کارکی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی تھی۔اصل میں جب سے حسنی مبارک نے اقتدار سنبھالی انہوں نے مصر پر نیم فوجی حکمران کے طور پر راج کیا۔ اپنے پورے دور میں انہوں نے ملک کو ایمرجنسی قانون کے تحت چلایا اور حکومت کو گرفتاری اور بنیادی آزادی کو کچلنے کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سخت قدم اسلامی شدت پسندی سے لڑنے کے لیے ضروری تھے کیونکہ شدت پسندی کی لہر کئی دہائیوں میں دیکھی گئی جس نے مصر کے بڑے صنعت سیاحت کو عام طور پر نشانہ بنایا۔ ایک طرح سے مبارک نے ملک کو استحکام فراہم کیا اور اقتصادی ترقی میں حصہ لیا ۔ حالیہ برسوں میں مبارک کو پہلی بار محسوس ہوا کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے ان پر ملک کے اندر اور باہر دونوں جانب سے دباو¿ پڑ رہا ہے۔ باہر سے دباو¿ ان کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کی طرف سے تھا۔ جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ سیاسی عمل کے لئے راستہ کھولنا چاہتے ہیں تو ان کے حامیوں کو بھی ان پر کم ہی یقین تھا۔ ان کے صدر کے عہدے کے لیے انتخابات میں نہ اترنے کے اعلان کا مطلب تھا کہ امریکہ نے ان پر باہر رہنے کا دباو¿ بنایا تھا اور ایک زیادہ جمہوری نظام کو بہتر طریقے سے اقتدار سونپنے کو کہا تھا۔ مبارک 1981 کے بعد سے تین بار بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے لیکن چوتھی بار امریکہ کے دباو¿ میں انہوں نے 2005 میں الیکشن نظام میں تبدیلی لا کر دوسرے امیدواروں کی گنجائش پیدا کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات مبارک اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں کافی جھکا ہوا تھا کیونکہ حکمران مصری لیڈر نے حزب اختلاف، خاص طور سے اخوان المسلمون کے خلاف مسلسل مہم جاری رکھا تھا۔ ان کے طویل دور، ان کی عمر اور جانشین کو لے کر مصر میں تشویش تھیں لیکن جنوری کے عوامی احتجاج نے مصر کے لوگوں کو ایک نئی آواز دی۔ ان کے آس پاس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی صحت اور ان کی طاقت ان کی عمر پر بھاری پڑی لیکن حالیہ دنوں میں کچھ صحت سے متعلق معاملات نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی فانی ہے۔ ان کی صحت کے بارے میں تشویش اس وقت دیکھی گئی جب وہ اپنے گل بلاڈر کے آپریشن کے لئے 2010 میں جرمنی گئے ۔ بہر حال، مصر کے زیادہ تر اہلکار اس بات سے انکار کرتے رہے اور اسرائیلی اور عرب دنیا کی میڈیا میں اپنی بات پیش کرتے رہے ۔2011 میں مصر کے شہروں میں مبارک کے خلاف عوامی تحریک ہونے لگے۔جنوری 29 کو خفیہ محکمہ کے صدر عمر سلیمان کی ترقی کی گئی جسے اس نظر سے دیکھا گیا کہ مبارک فوج میں اپنے حمایت کو مضبوط کرنا چاہتے تھے۔ اس سے پہلے تک ان کا براہ راست طور پر کوئی جانشین نہیں تھا اور اپوزیشن گروپوں کو یہ شک تھا کہ وہ اپنے بیٹے 40 سالہ جمال مبارک کو اس کے لئے تیار کر رہے تھے ۔10 فروری 2011 تک آتے آتے پورے مصر میں خبر پھیل گئی کی مبارک استعفی دینے والے ہیں لیکن مبارک نے ایک بار پھر لوگوں کو یہ کہہ کر چونکا دیا کہ وہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات تک اقتدار میں بنے رہےںگے۔ لیکن 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہی مبارک اپنی بیوی اور بیٹوں کے ساتھ قاہرہ چھوڑ کر نکل گئے۔ ان کے جانشین اور ملک کے نائب صدر عمر سلیمان نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ مبارک نے عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ 2011 میں اگست سے ہی مبارک کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے۔

No comments:

Post a Comment

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...