بہار میں کانگریس خود سوال بن گئی ہے. اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے یوراج راہل بابا نے ایک جھلک دکھلائی تو لگا کانگریس میں دم خم باقی ہے. عین انتخابات کے موقع پر مرکزی وزراء کی ایئر ڈراپنگ ہوتی رہی. مرکزی منصوبوں میں لوٹ کے الزامات کی جھڑی نتیش حکومت کے خلاف ہتھیار کی طرح پیش کی گئی. مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا. کانگریس دوبارہ اپنی کھوئی زمین تلاش کرنے میں مصروف ہے، مگر پرانے ہتھیار کے سہارے. پول کھول سفر، کھوئی زمین تلاش کرنے کے لئے پورے بہار کے دورہ کا پروگرام ہے. مگر چکے ہوئے ہتھیار کے سہارے. پرانی بات. 16 طرح کی مرکزی اسکیموں میں بہار میں ہو رہی رقم کی لوٹ ان کا ایجنڈا ہے. 27 اپریل کو اسمبلی کے سامنے شہید میموریل سے سفر کی شروعات ہوئی، مگر پالنے میں ہی پوت کے پاو ¿ں نظر دکھ گئے. خود کی قلعی کھل گئی. کانگریس کے اندرونی جھگڑوں کی گرم ہوا پارٹی کو جھلساتی ہوئی نظر آئی. لیڈر، کارکن ملا کر تین درجن سے زیادہ لوگ نہ ہوں گے. ریاست قیادت کو تبدیل کرنے کے لئے دہلی میں طواف کرنے والے تقریبا ًسب کے سب ندارد تھے. بھلے ہی مقصد ریاستی صدر چودھری محبوب علی قیصر کی اوقات دکھانی ہو.
Sunday, May 6, 2012
کھل گئی بہارکانگرےس کی پول
بہار میں کانگریس خود سوال بن گئی ہے. اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے یوراج راہل بابا نے ایک جھلک دکھلائی تو لگا کانگریس میں دم خم باقی ہے. عین انتخابات کے موقع پر مرکزی وزراء کی ایئر ڈراپنگ ہوتی رہی. مرکزی منصوبوں میں لوٹ کے الزامات کی جھڑی نتیش حکومت کے خلاف ہتھیار کی طرح پیش کی گئی. مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا. کانگریس دوبارہ اپنی کھوئی زمین تلاش کرنے میں مصروف ہے، مگر پرانے ہتھیار کے سہارے. پول کھول سفر، کھوئی زمین تلاش کرنے کے لئے پورے بہار کے دورہ کا پروگرام ہے. مگر چکے ہوئے ہتھیار کے سہارے. پرانی بات. 16 طرح کی مرکزی اسکیموں میں بہار میں ہو رہی رقم کی لوٹ ان کا ایجنڈا ہے. 27 اپریل کو اسمبلی کے سامنے شہید میموریل سے سفر کی شروعات ہوئی، مگر پالنے میں ہی پوت کے پاو ¿ں نظر دکھ گئے. خود کی قلعی کھل گئی. کانگریس کے اندرونی جھگڑوں کی گرم ہوا پارٹی کو جھلساتی ہوئی نظر آئی. لیڈر، کارکن ملا کر تین درجن سے زیادہ لوگ نہ ہوں گے. ریاست قیادت کو تبدیل کرنے کے لئے دہلی میں طواف کرنے والے تقریبا ًسب کے سب ندارد تھے. بھلے ہی مقصد ریاستی صدر چودھری محبوب علی قیصر کی اوقات دکھانی ہو.
Friday, May 4, 2012
शेना को दिली मुबारकबाद
शुक्रवार को संघ लोक सेवा आयोग ने सिविल सेवा परीक्षा 2011 के नतीजे घोषित कर दिए। इस बार शेना अग्रवाल ने टॉप किया है। शेना अग्रवाल मूलरूप से हरियाणा के यमुनानगर की रहने वाली हैं।शेना ने साल 2004 की सीबीएसई पीएमटी परीक्षा में भी पूरे देश में टॉप किया था। यही नहीं शेना ने साल 2010 में भी सिविल सेवा परीक्षा में शेना अग्रवाल ने 305वीं रैंक हासिल की थी। शेना युमनानगर के डॉ. सीके अग्रवाल और श्रीमती पिंकी अग्रवाल की बेटी हैं।शेना ने यमुनागर के ही संत निश्चल सिंह पब्लिक स्कूल से 10वीं की परीक्षा 95 प्रतिशत अंकों और 12वीं की परीक्षा दयानंद पब्लिक स्कूल नाभा से 92 प्रतिशत अंकों के साथ पास की थी।शेना की इस कामयाबी पैर हमारी तरफ से दिली मुबारकबाद-
Thursday, May 3, 2012
Tuesday, May 1, 2012
اےک دکھاوا ہے’لےبر ڈے‘ پر نکلنے والے گھرےالی آنسو
معراج نوری
ہر سال کی طرح اس سال بھی ےکم مئی کا خصوصی دن آیا اور چلا گیا۔ےہ دن ےونہی ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ نعرے لگتے ہیں ،جلوس نکلتے ہیں اور کچھمحنت کشوں کواعزازات سےبھی سرفرازکر دیا جاتا ہے۔ساتھ ہی منتظمین کو مل جاتا ہے مزدوروں کے استحصال کے خلاف لڑائی لڑنے کی اپنی نام نہاد پالیسیوں کو ایک سال تک جاری رکھنے کا حق۔ جس ملک میں کئی دہائیوں سے یکم مئی’ لیبر ڈے ‘کے طور پر میں منایا جاتا ہو اور اس ملک کا محنتکش آج بھی نریگا کے تحت ایک سو بیس روپے روزانہ پر کام کرنے کے لئے سڑکوں پر بھیک کا پیالہ لئے پھر رہا ہو وہاں ’لےبر ڈے‘ کی افادیت پر از سر نو غور تو ہوناہی چاہیے۔
قدیم زمانے میں سرماےہ دارانہ نظام تھا۔ سرماےہ دار اکثر و بےشترمزدوروں کے استحصال کے لئےکوشاں رہتے ہےں۔ دانشور طبقہسرماےہ دارانہ نظام سے مزدور کی حفاظت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ نہ تمام سرمایہ دار برے ہوتے ہےں نہ تمام دانشور اچھے۔ برا اور اچھا ہونا شخص کی ذاتی سوچ پر منحصر کرتا ہے۔ یہ سوال خاص معنی نہیں رکھتا کہ وہ شخص سرمایہ دار ہے، دانشور ہے یا محنت کش لیکن یہ بات اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب ایسے چالاک لوگوںکا اقتدار کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے مزدوروں کو غلام بنایا ہی، دانشوران کو بھی ساتھ کر لیا۔دانشوران نے ان سرماےہ داروں کے ظلم کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے سوشلزم کے نام پرمزدوروں کو آگے کر دیا۔ سرماےہ داروںنے کئی جگہ گھٹنے ٹیک دےئے۔ یہ گھٹنے ٹیکنے کا واقعہ یکم مئی کو ہوا تھا اس لئے اس کی یادگار کے طور پر یکم مئی کو’ لےبر ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ یکم مئی کوسرماےہ دارانہ نظام نے گھٹنے ٹےکے۔ اس بنیاد پر یہ دن محنت کشوں کے احترام کا دن ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خوفناک سچ یہ ہے کہ یکم مئی کو مزدوروں کے استحصال کی پہلی اےنٹ بھی رکھی گئی۔ اب تک سرماےہ دار براہ راست طور پرمزدوروں کا استحصال کرتا بھی تھا اور دکھائی بھی دےتاتھا لیکن یکم مئی کے بعد دانشوروں نے ایسا کمال کیا کہ مزدوروں کا استحصال بڑھتا گیا اور نظر آنا بند ہو گیا۔ گاندھی جی نے واضح کہا تھا کہ محنت کشوں کا احترام اور محنتانہ بڑھنا چاہیے۔ مشینوں کا استعمال اس وقت لازمیطور پر کیا جائے جب یا تو محنت کشوںکی کمی ہو جائے یامزدور ملنا مشکل ہو۔ دانشوروں نے گاندھی جی کی بات کو درکنار کرکے مارکس کو درمیان میں گھسا دیا کہ مشےنوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے اس کا فائدہمحنت کشوں میں بانٹ دیا جائے۔ سب سے بڑا گھپلہ یہ ہوا کہدانشوران نے مزدور کی تعریف’ جسمانی محنت‘ کو بدل کر اس کے ساتھ’ دماغی محنت‘ کو جوڑ لیا۔ اس تبدیلی سے دانشوروں کا راستہ صاف ہو گیا۔ یہ لوگ محنت کشوں کے نام پر پالیسیاں بنانے لگے، تنظیم بنانے لگے، حکومت بنانے لگے اور اس سے بھی زیادہ طاقتور ہو بیٹھے جہاں پہلے سرمایہ دار ہوا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے سب سے پہلے تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنا شروع کیا۔ یہ محنت کو دھکا دے کر تعلیم کو اہم مقام دینے میں پوری طرح کامیاب رہے۔ آج بھی محنت کشوں کا بجٹ کاٹ کر تعلےم کا بجٹ بڑھانے کی آوازیں اٹھتی رہتی ہےں اور دانشوروں کی حکومت ایسے مطالبات فوری طور پر مان بھی لیتی ہے۔ تعلیم پر بجٹ بڑھانا غلط نہیں ہے۔مزدور کو مناسب قیمت اور احترام ملنے لگے اور باقی بجٹ تعلیم پر خرچ ہو یہ ٹھیک ہے لیکن تعلیم پر بجٹ بڑھے چاہے اس کے لئے روٹی،کپڑا، مکان، دوا جیسی بنیادی ضرورتوں پر ہی ٹیکس کیوں نہ لگانا پڑے، یہ غلط ہے۔ آزادی کے 64 برسوں کے بعد بھی ایک سو بیس روپے میں لیبر سے سال بھر کام کرانے کے لیے ہمارے پاس مطلوبہ رقم نہیں ہے۔
حکومتوں کی عدم دلچسپی اور اس جانب سے منھ موڑ لےنے کی وجہ سے مزدوروں کے استحصال کرنے والوں کا حوصلہ بڑھا۔ ان لوگوں نے نئی چالاکی دکھاتے ہوئے مصنوعی توانائی کو زیادہ سے زیادہ سستا کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ ایک تیر سے کئی شکار ہو گئے۔ مزدوری بڑھنے سے روکنے میں یہ کوشش بہت کارگرثابت ہوئی کیونکہ اگر مصنوعی توانائی کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا تو وہ سارے مسائل خود بخود حلہو جاتے جن کی بنیاد پرمزدوروںکے درمیان بے چینی کے شعلے جلا کر رکھی جا سکتی تھی۔ اس کے ذریعے سے اقتصادی عدم مساوات بڑھتا گےا، گاو ¿ں کمزور اور شہر مضبوط ہونے لگے۔ کھیتی کو مزدور کے ساتھ جوڑ دیا گیا جبکہ عقل کو صنعت یا سرکاری نوکری کے ساتھ۔ نوکری اور صنعتکو فائدہ دلاکر اور کھیتی کو مسلسل غےر منافع بخش بنانے کی کوشش کی گئی۔ کھیتوں کی پیداوار کی قےمتوں کو بڑھنے سے روکا گیا۔ مسلسل مہنگائی کا جھوٹا ہنگامہ اس طرح کےا گیا کہ کھیتی سے متعلق پےداوار کی قیمت بڑھ ہی نہ سکے۔ کھیتی سے متعلق مصنوعات پر کئی طرح کے ٹیکس اور قانون لاد دیئے گئے۔ سائیکل پر چار سو روپے فی سائیکل ٹیکس اور رسوئی گیس کو سبسڈی دینا شروع کیا گیا۔ دوسری طرف ٹیلی فون، کمپیوٹروغیرہ ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ مفید اور کم خرچ پر بنایا گیا جومڈل کلاس طبقےکے استعمال میں زےادہ آتی ہے۔ ایک مزدور کو سو روپے روزانہ میں بھی کام نہیں ملتا۔ اس کے بعد بھی پورے ہندوستان میں مسلسل یہ تشہیرجاری ہے کہ آجہندوستان میں کام کرنےوالے مزدور نہیں ملتے۔ حیرت ہے کہ آپ کو ایک عہدے کی ضرورت ہونے پر کئی ہزار درخواست موصول ہوتے ہیں دوسری طرف تلاش کرنے پر بھی مزدور نہیں ملتے کیونکہ اس ایک عہدے کے لئے درخواست کے ساتھ ہے اچھی تنخواہ، اچھی رشوت، سہولت اورقابل احترام کام اور اوپر سے عہدے کا رعب۔ مزدور ی میں کیا رکھا ہے؟ ایک سو روپیہ، مالک -ملازم کے تعلقات، اوپر سے ڈانٹ ڈپٹ۔ غور کےجئے کہ آج مئی یوم نے جسمانی محنت کا کیا حال کر رکھا ہے؟
ان سب تضادکے بعد بھی حالت یہ ہے کہ اگر مزدور نہیں ملتے تو نریگا میں ایک سو بیس روپے میں مزدور کہاں سے مل رہے ہیں کہ آپ کو ایک سو دن کی حد کا اعلان کرنا پڑا۔ اگر آپ ایک سو بیس روپے میں بھی کام نہیں دے پا رہے ہےںتوہندوستان میں کام کرنے والوں کا فقدان ثابت ہوتا ہے کہ کام دینے والوں کا فقدان۔ واضح ہے کہ گاو ¿ں میں مزدور ہے اور شہروں میں مزدوروں کی مانگ ہے۔ نریگا میں بھی مشےنوں کا استعمال ہونے لگا ہے کیونکہ ڈیزل، پٹرول، بجلیکا استعمال سستا بھی ہے اور سہولت سے دستےاب بھی۔ مزدور مشین کے برعکسمہنگا ہے۔
مئی یوم دماغی محنت کرنے والوں کے لیے بخشش ہے۔ انہیں سرمایہ داروں کے متوازی ایک طاقت ملی ہے۔ انہیں جسمانی محنت کرنے والوں کا استحصال کرنے کا حق ملا ہے۔ انہیں اقتدار میں حصہ داری ملی ہے اور ان کی ترقی کے دروازے کھلے ہیں۔ دوسری طرف یکم مئی جسمانی محنت کرنے والوں کے لئے ایک کلنک کا دن ہے۔ یہی وہ دن ہے جب لیبر کے نام پر منظم دانشور سماج سے اور زیادہ تنخواہ ،بھتے، سہولیات، بجٹ وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہےں اور پا بھی جاتے ہےں۔ دوسری طرف کو مشکلات درپےش ہے۔ ہندوستان کی کل ترقی کی شرح نو فیصد کے قریب ہے۔ یہ سرمایہ داروں کی سترہ ،دانشوروں کی نو اور مزدوروں کی ایک فی صد کا اوسط ہے۔ یہ ایک فیصد کی شرح ترقی بھی حکومت کی طرف سے حاصل سستے اناج، نریگا کی طرف سے حاصل روزگار اور دیگر سہولیات کی وجہ سے ہے ورنہ ترقی کی شرح منفی ہی ہے۔ سرماےہ دارانہ نظام نے پورے ہندوستان میں مزدوروںکو دھوکہ دے کر ان کی فطری ترقی کی شرح کو روکنے کی پہل کی ہے۔ مصنوعی توانائی کی قیمت میں اضافہ کے خلاف سب سے آگے کمیونسٹ ہی کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر مصنوعی توانائی کی بھاری قیمت مےںاضافہ ہوگا تومزدور وںکی فطری مانگ بڑھ جائے گی اور اس سے غریب دےہی مزدوروں کے اندر مسلسل جلائے جا رہے بے چینی کے شعلے بجھ سکتے ہیں۔اسلئے اب نئے تناظر میں یکم مئی کو محنت کشوںکے استحصال کے دن کے طور پر منانے کی پہل کرنی چاہئے کیونکہ یکم مئی نے مزدوروں کو مضبوط کیا ہے، انہیں آزادی دلائی ہے لیکنمزدوروں کو اس سے دور رکھنے کی سازش بھی کی ہے۔
ہمیں آخری بار یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مزدور، عقل اور دولت کے درمیان مساوات نہ تو ممکن ہے نہ مناسب۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ان کے درمیان بڑھتے عدم مساوات سماج میں کبھی امن پیدا نہیں ہونے دےں گی۔ مارکسواد نے مساوات کا ناممکن لالی پاپ دکھا کر اتنے برسوں تک مزدوروں کو بہلاےا۔ اب سرماےہ دارمزدور کو دبانا شروع کرے گا۔ ہم جتنی جلدی حقیقت کو سمجھ کر محنت اور دولت کے درمیان عدم مساوات کی ایک ممکن لائن کھینچ لےں اور اس لائن کی بنیاد پر عدم مساوات دور کرنے کی کوشش کریں تو ممکن ہے کہ سماج میں اصلی امن نظر آناشروع ہو۔
Subscribe to:
Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...
.jpg)
.jpg)
.jpg)




.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)

