Sunday, January 15, 2017

Meraj Noorie

 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
Meraj Noorie

آئین ،عدلیہ اور سسٹم سے کھلواڑ کی اور کیامثال دوں
معراج نوری

 جمہوریت کے پہلےستون ’مقننہ‘ کے ایک سپہ سالاراور اترپردیش کے اناؤ سے بی جے پی کے بے قابو ممبر پارلیمنٹ ساکھشی مہاراج نے نہ صرف سسٹم کی دھجی اڑائی ،عدالت عظمیٰ کی توہین کی بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تار تار کرنے کے ہندوتوا نواز پارٹی بی جے پی اور اس کی مادری تنظیم آرایس ایس کے مشن اترپردیش کی شروعات بھی کردی۔ 

ہندوستانی سیاست دانوں کے ذریعہ آئین ،عدلیہ اور سسٹم سےکھلواڑ کی اس سے بڑھ کرمثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ کچھ دن قبل  ہی جب سپریم کورٹ نے سیاست دانوںکے ذریعہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہب اور ذات پات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہواور کہا ہوکہ کوئی بھی سیاست داں ذات پات، عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگ سکتا۔ انتخابات کو ہمیشہ سیکولر عمل ہی رہنا چاہیے۔اس کے بعد مورخہ ۶؍جنوری ۲۰۱۷ء کو ہی الیکشن کمیشن آف انڈیانے پانچ ریاستوں میں آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران جمہوریت کےچوتھے ستون ’میڈیا‘ کو مذہب، فرقے اور ذات کے نام پر تقریر کا احاطہ نہ کرنے اور پیڈ نیوز پر روک لگانے کی ہدایات جاری کی ہوجس کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ،۱۹۵۱ء کی دفعہ۱۲۶؍ میں بیان کردہ قوانین کے تحت فرقہ وارانہ یا ذات پات کی بنیاد پر انتخابی مہم پر پابندی ہے، اس لئے پریس کو ایسی رپورٹ نہیں پیش کرنی چاہئے جو مذہب، نسل، ذات، فرقہ یا زبان کی بنیاد پر عوام کے درمیان نفرت یا دشمنی کے جذبے کو فروغ دیتی ہو۔الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق کوئی بھی اگر ان دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اسے دو سال قید یا جرمانہ یا پھر دونوں کی سزا ہوگی جیسے احکامات کا ہندوستانی سیاست دانوں پر کوئی اثر نہ ہو بلکہ اس کے ذریعہ اس کی خلاف ورزی کی جائے اور جمہوریت اور سیکولرزم کا مذاق بنایا جائے۔
ان دو خاص احکامات کوایک ہفتے بھی نہیں ہوئے کہ جمہوریت کے پہلےستون ’مقننہ‘ کے ایک سپہ سالاراور اترپردیش کے اناؤ سے بی جے پی کے بے قابو ممبر پارلیمنٹ ساکھشی مہاراج نے نہ صرف سسٹم کی دھجی اڑائی ،عدالت عظمیٰ کی توہین کی بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تار تار کرنے کے ہندوتوا نواز پارٹی بی جے پی اور اس کی مادری تنظیم آرایس ایس کے مشن اترپردیش کی شروعات بھی کردی۔ ساکھشی مہاراج نے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے ایک خاص مذہب(اس خاص مذہب کا مطلب بالکل واضح ہے اور وہ ہے اسلام) کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ساکشی مہاراج نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی کی وجہ سے مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس کے لئے ہندو ذمہ دار نہیں ہے، ذمہ دار وہ ہیں جو چار بیویوں اور۴۰؍بچوں کی باتیں کرتے ہیں۔ میرٹھ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے  ساکھشی مہاراج نے تین طلاق کے تعلق سے بھی اپنی بھڑاس نکالی۔ ساکھشی مہاراج نے یہ بھی کہا کہ تین طلاق کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سب کے لئے یکساں قانون بنانے کا وقت آ گیا ہے۔ یہی نہیں انتخابات سے پہلے ساکھشی مہاراج نے رام مندر کے معاملے کو بھی ہوا دینے کی کوشش کی تاہم اس بار رام مندر کو بی جے پی کی جگہ سادھو سنتوں کا مسئلہ بتا دیا۔ 
ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی حکومت خبروں کی دنیا میں ایک لمبے عرصہ تک باقی رہنا چاہتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے ایک طرف جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اپنی فرقہ وارانہ شبیہ کو چھوڑ کر ’وکاس پرش‘والی شبیہ بنانا چاہ رہے ہیں، وہیں دوسری جانب انھیں کی پارٹی کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج اپنی پرانی روش سے ذرہ برابر بھی ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شاید اسی سبب سے وہ اپنے مسموم بیانات سے بازآنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، پہلے انہوں نے’مدارس‘ اور’لوجہاد‘پر بیان دے کر ’قومیت‘کے نام پر زہر گھولنے کی کوشش کی اور اب مزید اسے مستحکم کرنے کے لئے زبان درازی اور دیدہ دلیری کی حدیں پار کرنی شروع کردی ہیں۔
ویسے یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ساکھشی مہاراج نےاس طرح کی زہر افشانی کی ہو۔ساکھشی مہاراج  اور زہرافشانی کاچولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔اس سےقبل  بھی کئی مواقع پر ساکھشی مہاراج خود کے مسلم دشمن ہونے کا ثبوت پیش کرچکے ہیں۔ساکھشی مہاراج گاہے بگاہے اسلام اورمسلمانوں کے تعلق سے نازیباکلمات اداکرکے اپنی مادری تنظیم آرایس ایس کے ایجنڈے ’فرقہ وارانہ منافرت‘کو ہوا دے کر آرایس ایس کے نورنظر بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ 
ساکھشی مہاراج کو مدرسے بھی دہشت گردی کا مرکز نظر آتے ہیں۔انہوں نے کچھ دنوں قبل کہا تھا کہ مدرسوں میں حب الوطنی کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہاں ایک بھی مدرسہ ایسانظر نہیں آتا  جہاں۱۵؍ اگست اور۲۶؍ جنوری کو ترنگا لہرایا جاتا ہو۔ مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ساکشی مہاراج مدرسوں کو سرکاری مدد دیئے جانے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے زیادہ تر اسکول حکومت سے کوئی مدد نہیں لیتے ہیں، جبکہ حب الوطنی سے کوئی واسطہ نہیں رکھنے والے تمام مدرسوں کو سرکاری مدد دی جاتی ہے۔
حالانکہ ساکھشی مہاراج کے میرٹھ میں دیئے گئے حالیہ بیان کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا حرکت میں آیا اور اس نے میرٹھ کے ڈی ایم سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ اترپردیش پولیس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ساکھشی مہاراج کا یہ بیان مصلحت ہے یا مجبوری یا پھر ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ کیونکہ جس پارٹی سے وہ ممبر پارلیمنٹ ہیں یعنی بی جے پی نے خودکو اس بیان سے الگ کرلیاہے اور کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے، پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
دراصل   ان دنوں ایک طرف نوٹ بندی کا سوال ایک بڑا سیاسی موضوع بن کر ابھر رہا ہےجس کا اثر پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے کچھ وزرا ملک کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اس غیر معمولی قدم سے ملک میں ایمانداری اور شفافیت کا ایک انقلاب آنے والا ہے تو دوسری جانب تجزیہ کار اس امر کے تجزیے میں مشغول ہیں کہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنےکا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر کیا منفی اثر پڑے گا۔حزب اختلاف کی جماعتیں بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے کے فیصلے کے لیے حکومت پر بد عنوانی اور بد انتظامی کا الزام لگا رہی ہیں۔اب تووزیر اعظم پر ذاتی طور پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیںجس سے ملک کی سیاست خاصی تلخ ہوتی جا رہی ہےتو دوسری جانب نوٹ بندی پر اب تک گھٹنے نہیں ٹیکنے والی مودی سرکا ر نے بالآخر یہ اعتراف بھی کرلیا ہے کہ اس سال نوٹ بندی کے سبب شرح نمو کم رہ سکتی ہے ۔پہلے یہ انداز ہ تھا کہ شرح نمو ۷ء۷؍ فیصد تک رہ سکتی ہے لیکن اب کہا جارہا ہے کہ یہ ۷ء۱؍ فیصد پر آجائے گی جبکہ  ایس بی آئی ریسرچ نے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں جی ڈی پی۶ء۳؍ فیصد اور پورے مالی سال میں۶ء۷؍فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس کے نیچے جانے کا خطرہ بھی بتایا ہے۔ایسے حالات میں اب بی جے پی اور اس کی مادری تنظیم آرایس ایس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں کہ فرقہ پرستی کو ہوادے کر پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام کو ورغلانے کا کام کیا جائے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جائے۔
اتر پردیش، پنجاب ،اتراکھنڈ ،گوا اور منی پور میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کی امیدیں ان ریاستوں بالخصوص اترپردیش سے جڑی ہو ئی ہیں۔ وہ یہاں زبردست جیت کی امید کر رہی تھی لیکن کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے بعد اب وہ یہ محسوس کر رہی ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ وہ بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے پہلے جتنی پر اعتماد تھی اب اتنی پر امید نہیں دکھائی دے رہی ہے۔اتر پردیش اگر اس کے ہاتھ نہیں آتا تو یہ پارلیمانی انتخابات ۲۰۱۹ءکے لیے بہت برا دھچکا ہوگا۔ انھیں اندازہ ہے کہ اتر پردیش ہی نہیں، ہریانہ، پنجاب، راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی سیٹیں بڑھ نہیں سکتیں بلکہ گھٹنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔پنجاب اور اتر پردیش کے انتخابی نتائج بی جے پی کے مستقبل کے امکانات کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں بی جے پی اب پوری طرح اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اپنے پرانے رنگ میں رنگتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کی شروعات ساکھشی مہاراج نے کردی ہے ۔پورا بھگوا خیمہ اب اسی فراق میں ہے کہ بلند وبانگ دعوے کرکے حکومت میں آنے والی نریندرمودی حکومت کی ناکامیوں کو  کسی بھی طرح سےفرقہ پرستی کی چادر سے ڈھک کر چھپایا جائے اور پانچوں ریاستوں میں جیت کا پرچم لہرایا جائے تاکہ ۲۰۱۹ء میں بھی بی جے پی دوبارہ مرکز میں اقتدارمیں آجائے حالانکہ اس بات کے امکان کم ہی ہیں کہ عوام ان کے جھانسے میں آئیں اور ان پر اعتمادکریں کیونکہ مودی حکومت کی ناقص کارکردگی اور نوٹ بندی کے مہلک فیصلے سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور مستقبل قریب میں حالات اور دگرگوں ہونے کا خدشہ ہے۔
لب و لباب یہ کہ بی جے پی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں پر جس طرح عرصہٴ حیات تنگ کیا جارہا ہے اور ہندوستان جیسے سب سے بڑے سیکولر ملک کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہے ، یہ نہایت ہی افسوسناک ہے۔جب سے بی جے پی اقتدارمیں آئی ہے ، ہر روز فرقہ واریت کو بڑھا دینے والے بیانات دینےکا سلسلہ جاری ہے ۔بھگوا خیمہ خود کو قانون و آئین سے بالاتر ماننے لگا ہے۔ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے سیکولرعوام اس گھناؤنی سازش کے خلاف صف آراہوں اور اس سازش کے درپردہ سیاسی مفاد کی تکمیل کے بی جے پی اور آرایس ایس کے ایجنڈے کو عام لوگوں تک پہنچائیں اور ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کو قائم رکھنے میں اپنا تعاون پیش کریں۔
merajmn@gmail.com


सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...