Tuesday, March 17, 2015

بنگلہ دیشی تو اک بہانہ ہے!

معراج نوری
بھارت میں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن سے سیکولر بھارت کا اصل چہرہ سامنے آجاتاہے۔ ایسا ہی ایک دلسوز واقعہ ناگالینڈ کے شہر دیماپور میں حال ہی میں پیش آیا۔ 5مارچ2015کوسید فخر الدین نامی مسلمان نوجوان جو کہ آبروریزی کے مقدمہ میں سنٹرل جیل دیماپور میں بند تھا۔ تقریباً چار ہزار لوگوں پر مشتمل ہجوم نے جیل میں گھس کر اسے باہر نکالا،ننگا کر کے پورے شہر میں گھمایا اور پھر بری طرح سے لاتوں ، گھونسوں اور ڈنڈوں سے تشددکرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ، اس کے بعد فخر الدین کی لاش جیل سے سات کلومیٹر دور تک گھسیٹتے ہوئے لے جائی گئی اور آخر میں اسے دیما پور میں کلاک ٹاور پر لٹکا دیاگیا۔ فخر الدین کو جیل سے نکال کر لے جانے سے لے کر تشدد تک اور اس کی لاش کو لٹکانے تک ‘ اس سارے عمل میں کئی گھنٹے لگے ، متعصب لوگوںکا ہجوم دندناتا رہا ، مسلمانوں کی املاک کو بھی جلایا گیا، شرپسند اس ساری کارروائی کی ویڈیو بھی بناتے رہے مگر فوج ، پولیس اور دیگر ٹکٹکی باندھے انصاف کا قتل ہوتے دیکھتے رہے ،دوسری طرف میڈیا اس واقعہ کو یہ کہہ کر بلوائیوں کی ڈھارس بندھاتا رہا کہ ”یہ سب عصمت دری کے خلاف عوامی و غم و غصے کا اظہا ر ہے“۔ 
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ متوفی پر بنگلہ دیشی مسلمان ہونے کا الزام زیادہ شدید تھا۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسی واقعہ میںلڑکی کے ایک دوسرے دوست جو ناگالینڈ کا غیر مسلم ہے وہ بھی ایک ساتھ گرفتار کیا گیا تھا لیکن تشدد پر آمادہ اکسائی ہوئی اس بھیڑ نے اس غیر مسلم ناگا کو کوئی گزند نہیں پہنچائی ۔میڈیکل رپورٹ سے بھی یہ ظاہر ہوگیاکہ لڑکی کی عصمت دری نہیں کی گئی تھی۔حال ہی میں دیما پور کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں ریاستی پولیس کو اس پورے واقعے کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران کے علم میں پہلے سے موجودتھا کہ بھیڑکس ارادے سے حرکت کررہی ہے۔ایسے میں یہ سوال بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ دیماپور جیسے چھوٹے سے شہر میں پانچ ہزار نوجوانوں کو اکٹھا کرنے کے پیچھے کون لوگ فعال تھے۔نیز ریاستی سرکار بھی اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔یہ واقعہ کسی اور ریاست اور کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو ملک بھر کی سیاسی جماعتیں اور میڈیا ایک ہنگامہ کھڑاکردیتیں اور ریاستی سرکار کے استعفیٰ کا شدید مطالبہ کرتے مگر حیرت کی بات ہے کہ سیاسی اور سماجی تنظیمیں اس معاملے میں محض رسم اداائیگی تک محدود رہیں۔اور اس ظالمانہ واقعہ کے خلاف ملک کے کسی حصے میں بھی کوئی تحریک کھڑی نہیں ہوئی۔جس طرح دوسال قبل نربھیا عصمت دری معاملے میں سماجی تنظیمو ں نے ایک طوفان بپا کردیا تھا اس طرح کا کوئی منظر اس معاملے میں دیکھنے کو نہیں ملا۔اور سارے موم بتی بردار اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ خود مسلم تنظیمیں بھی معنیٰ خیز خاموشی کا شکاررہیں اور کسی نے بھی ریاستی سرکار کی برطرفی کا مطالبہ نہیں کیا۔انصاف کے دومعیار ملک میں ہمیشہ سے جاری ہیں ۔اس کی مزید ایک مثال یہ واقعہ ہے جس کا تفصیلی پس منظر بھی موجود ہے۔
ناگالینڈ بھارت کی ریاست ہے، 1947میں جب انگریز نے برصغیر کو خیر باد کہا تو ناگالینڈ کے عیسائی انتہاپسند راہنما اے زیڈ فیزو نے اسے ایک الگ مملکت کا درجہ دینے کا اعلان کردیا اور کافی عرصہ تک وہ اپنے قوانین کے تحت مملکت کا نظام چلاتا رہا ۔ بعد ازاں جب بھارتی فوج نے ناگالینڈ کا رخ کیا اور اس ریاست کو بھارت کے ساتھ ملانا چاہا تو ناگالینڈ کے عیسائیوں نے مزاحمت شروع کر دی مگر فوج نے بدستور کارروائی جاری رکھی یہاں تک کہ1960میں ناگالینڈ کے لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور اسے بھارت کا ایک صوبہ بنا دیا گیا مگر ناگالینڈ کے لوگوں نے دلی طور پر بھارت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ لال ڈینگا نے ایک لمبے عرصے تک مسلح جدوجہد کے ذریعہ حکومت ہند کو مجبور کیا کہ وہ ناگالینڈ ہل کونسل کی تشکیل کرے اور اس طرح شیڈول چھ میں ترمیم کرکے بھارت سرکار نے لال ڈینگا کی پرتشدد مزاہمت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اس ریاست کو خصوصی اختیارات دے دیے جن کے تحت ضروری قرار دیا گیا کہ بھارت کے دوسرے علاقوں سے آکر آباد ہونے والوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ، ریاستی سطح پر ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی جاسکتی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگ ناگالینڈ میں زمین ، جائیداد ، دکان اور مکان وغیرہ نہیں خرید سکتے ، سرکاری ملازمت اور دیگر مراعات میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ ناگالینڈ میں نوے فیصد عیسائی آٹھ فیصد ہندو اور صرف دو فیصد مسلمان ہیں۔ ناگالینڈ کی عیسائی تنظیمیں ناگا کونسل ، ناگا گروپ وغیرہ وقتا فوقتا یہاں کی مسلم اقلیت کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ ناگالینڈ ملک کی قبائیلی ریاستوں میں سے ایک ایسی ریاست ہے جس میں 16بڑے قبائل آباد ہیں ۔20لاکھ کی آبادی والی اس ریاست میں ہر مہینے کسی نہ کسی قبیلے کا تہوارمنایا جا تا ہے ۔اسی لئے اس ریاست کو سب سے زیاد پرامن او رخوش مزاج لوگوں والی ریاست سمجھا جاتا رہا ہے مگر گزشتہ 40سالوں سے ناگالینڈ سمیت ملک کی تمام شمال مشرقی ریاستوں میں آرایس ایس انتہائی سرگرم رہا ہے ۔ان ریاستوں میں رہنے والی بیشترعیسائی آبادیوں کو ہندومذہب میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یہ کوشش اس حد تک کامیاب بھی ہوچکی ہے کہ شمالی مشرق کے اکثر قبائل نے ہندومذہب کے لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات اس حد تک استوار کرلئے ہیں کہ ان میں سے اکثر اب خود کو ہندو کہنے لگے ہیں۔اس کی سب سے مشہور مثال آسام کے بو ڈو ہیں جو اصلاً عیسائی تھے اور اب خود کوہندوکہنے لگے ہیں ۔یہی حال ناگالینڈ کے قبائلیوں کا بھی ہے ۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ نہ ت ملک کی عیسائی تنظیمو ں نے اس جانب توجہ دی ہے او رنہ ہی مسلم تنظیمیں اس حقیقت سے کماحقہ واقف ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہی قبائل شمال مشرقی ریاستوں میں رہنے والی معتد بہی مسلم آبادی کے خلا ف ہتھار بکف ہوچکی ہے ۔اور اس تشدد کا جواز صرف یہ مفروضہ ہے کہ ان ریاستوں میں رہنے والے مسلمان غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن ہیں جن کے خلاف آرایس ایس ایک لمبے عرصے تحریک چلاتی رہی ہے مگر انتہائی چالاکی کے ساتھ اعلیٰ ذات ہندو ¿ں کو پیچھے رکھ کر ان قبائلیوں کو آگے کر دیا ہے ۔یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے گجرات میں 2002کے مسلم کش فسادات میں اعلی ذات او رکاروباری ہندوپیچھے رہے اور ہندوقبائیلیو ںکو آگے کر کے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔
شمال مشرقی ریاستو ں میں آسام سب سے بڑی ریاست ہے جہاں 2011کی مردم شماری کے مطابق 34فیصد مسلم آباد ہیں۔ یہ مسلمان لگ بھگ سوا دو سو برس سے یہ یہیں پر مقیم ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں19ویں صدی کے اوائل سے ہی یہاں بنگالی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ 1826میں برطانیہ نے پہلی اینگلو برمی لڑائی میں مقامی فوج کو شکست دی اور ”معاہدہ یندابو“ کے تحت آسام کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس وقت بھی مشرقی بنگال سے ہزاروں کی تعداد میں بنگالی بولنے والے مسلمان منتقل ہوگئے تھے۔ مقامی افراد کے علاوہ انگریزوں نے کم اجرت والے مزدوروں کے حصول کے لئے ان بنگالیوں کو آنے سے روکا نہیں تاہم 20ویں صدی کی دوسری دہائی تک ان بنگالی مسلمانوں کے خلاف مقامی عوام میں سیاسی تحریکات شروع ہوگئیں جس کے بعد بنگالی مسلمانوں کی آبادی پر پابندی کا مطالبہ شروع ہوا۔ آسام میں جو بنگالی مسلمان ہیں انہیں پناہ گزین کہنا یا غیر قانونی باشندے قرار دینا سب سے بڑا ظلم ہے کیوں کہ یہ وہی بنگالی مسلمان ہیں جنہوں نے 1947میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی اور تقسیم وطن سے پہلے ہی سے آسام کے ناگاو ¿ں، کمروپہ، گول پارہ اضلاع میں مسلمان آباد تھے۔ ان کے خلاف جو تحریکات چلائی جارہی ہیں وہ صرف اور صرف مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہیں۔ حالانکہ آسام میں مسلمانوں کی آبادی 30.92فیصد ہے۔ اور ضلع دھوپری میں 74.29فیصد، گول پارہ میں 53.71فیصد، بار پیٹا میں 59.36فیصد مری گاو ¿ں میں 47.58، ناگاو ¿ں میں 50.99، کریم گنج میں 52.30، ہیلاکنڈی میں 57.99فیصد، کچر میں 36.13فیصد، دارنگ میں 35.54فیصد ، گیگاو ¿ں میں 38.5 فیصد مسلمان آباد ہیں۔
آزادی ہند اور تقسیم وطن کے وقت سے ہی آسام میں جو بنگالی مسلمان تھے انہوں نے اپنی علاحدہ شناخت نہیں بنائی بلکہ انہوں نے مقامی عوام کی طرح اپنی زبان کو آسامی ہی رکھا۔ اس کا ثبوت صرف ایک ضلع دھوبری کافی ہے جہاں مسلم آبادی 74.29فیصد ہے اور جن کی مادری زبان آسامی ہے‘ ان کا فیصد 70.07 ہے۔ آسام کے مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے آسامی تہذیب و ثقافت کو اختیار کیا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف مسلسل پ ±رتشدد تحریکات چلائی جاتی رہی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسی اکثر تحریکیں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے شروع کی جاتی ہیں۔اور ان کو سیاسی لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔1979میں بنی آل آسام اسٹوڈنٹ یونین نے اس تحریک کو تشدد آمیز تحریک کی صورت دی ۔بندوقوں اور بموں کے سہارے آخر کار راجیو گاندھی کو 1985میں آسام معاہدہ کرنے پر مجبور کیا۔اور پھر یہ تنظیم اسم گن پریشد کے نام سے ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل ہوگئی ۔اور اس کا صدر آسام کا وزیراعلی بن گیا جبکہ اس کے علی الرغم آل آسام مائناریٹیز اسٹوڈنٹس یونین بھی بنی جس نے اس تحریک کا مقابلہ کرنے کی حتی المقدور کوشش کی مگر آخر کار بے اثر ثابت ہوئی۔اس کی وجہ آسام کے مسلمانو ں کی ناخواندگی اور آسام کے مسلم لیڈروں کی خودغرضی تھی جنہو ںنے اپنی ذاتی اغراض کی خاطر ملی مفادات کو قربان کیا ۔اپنی سیاسی تنظیمیں بنائیں اور اسامی مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ایوان اقتدارتک تو پہنچے مگر ارباب اقتدار سے سانٹھ گانٹھ کرکے اسامی مسلمانوں کی شہریت کے مسئلے کو مزیدپیچیدہ کردیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیماپور کے اس بے ایمانہ قتل کے بعد بھی آسام سے تین ممبران پارلیمنٹ کو جتانے والی بدرالدین اجمل کی پارٹی یوڈی ایف خاموش تماشائی بنی رہی ۔سید فخرالدین کاتعلق آسام کے براک ویلی کے کریم گنج ضلع ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے بدرالدین اجمل کے بھائی سراج الدین اجمل کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔
اسی دوران شمالی آسام کے بوڈو قبائلیوں نے بھی علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کی اور بوڈو مطالبات کے پیش نظر 13مئی 2003 کو بوڈولینڈ ٹیری ٹوریل کونسل BTC کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سیاسی طور پر بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ کا اس پر تسلط ہے۔ 2006کے الیکشن میں فرنٹ نے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے ساتھ مفاہمت کرکے اپنے موقف کو مستحکم کیا۔ 2010کے انتخابات میں بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ نے کانگریس کی حمایت سے کامیابی حاصل کی اور کابینہ میں بھی دو نشستیں حاصل کرلیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ بوڈو قبائیلوں کو کانگریس کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے اور اپنے سیاسی مفادات کیلئے وہ اس کی کوتاہیوں اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جہاں ریاست میں یہ پارٹی کانگریس کی حلیف ہے وہی مرکزمیں یہ پارٹی این ڈی اے کی حریف ہے کیونکہ 2003میں اسی این ڈی اے بی ٹی سی قائم کرنے میں اس پارٹی کی مددکرتے ہوئے بی ٹی سی کی 75نشستوں کو بوڈو قبائل کے لئے مخصوص کردیا تھا جبکہ کہ متذکر بوڈو لینڈ کے چار اضلاع میں بوڈو کی آبادی 27فیصد سے زیادہ نہیں ہے ۔یہ وہی بو ڈو قبائل ہیں جنہوں نے قبل رمضان کے مہینے میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکردیا تھا ۔100سے زائد مسلمانوں کو قتل کیااور لاکھوں مکانوں کونذرآتش کردیا تھا۔اس وقت بھی آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوئی نے یہ اعتراف کیا تھا کہ بوڈو کے پاس پانچ ہزار اے کے ۔47رائفل موجود ہیں ۔انہیں چھیننے سے قاصر ہیں۔موجودہ قتل انہیں سب حالات کا پرتوہ ہے ۔شمال مشرقی ریاستوں میں بنگلہ دیشی کے نام پر جب تک یہ فرقہ وارانہ اور پرتشدد تحریک جاری رہے گی او رکانگریس و بی جے پی ایک خاص حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس تحریک کی پشت پناہی کرتے رہیں گے اور اس تحریک کو قانونی ،سماجی اور عسکری تعاون فراہم کرتے رہیں گے تب تک قتل عام کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔بلکہ اس بات کا خدشہ رہے گا اور ناگالینڈ کے واقع نے اس خدشے کو مزید مضبوط کردیا ہے کہ اب یہ تحریک آسام کی حدودسے نکل کرناگالینڈ ،تریپورہ ،میگھالیہ اور منی پور میں بھی اپنے اثرات کو وسیع ترکرتی جارہی ہے۔مسلم تنظیموں کے لئے یہ لمحہ ¿ فکر ہونا چاہئے کہ ان ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت اور قانونی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ان کے پاس کیا کوئی ایماندارانہ اور مخلصانہ حکمت عملی موجودہے۔
بھارت میں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن سے سیکولر بھارت کا اصل چہرہ سامنے آجاتاہے۔ ایسا ہی ایک دلسوز واقعہ ناگالینڈ کے شہر دیماپور میں حال ہی میں پیش آیا۔ 5مارچ2015کوسید فخر الدین نامی مسلمان نوجوان جو کہ آبروریزی کے مقدمہ میں سنٹرل جیل دیماپور میں بند تھا۔ تقریباً چار ہزار لوگوں پر مشتمل ہجوم نے جیل میں گھس کر اسے باہر نکالا،ننگا کر کے پورے شہر میں گھمایا اور پھر بری طرح سے لاتوں ، گھونسوں اور ڈنڈوں سے تشددکرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ، اس کے بعد فخر الدین کی لاش جیل سے سات کلومیٹر دور تک گھسیٹتے ہوئے لے جائی گئی اور آخر میں اسے دیما پور میں کلاک ٹاور پر لٹکا دیاگیا۔ فخر الدین کو جیل سے نکال کر لے جانے سے لے کر تشدد تک اور اس کی لاش کو لٹکانے تک ‘ اس سارے عمل میں کئی گھنٹے لگے ، متعصب لوگوںکا ہجوم دندناتا رہا ، مسلمانوں کی املاک کو بھی جلایا گیا، شرپسند اس ساری کارروائی کی ویڈیو بھی بناتے رہے مگر فوج ، پولیس اور دیگر ٹکٹکی باندھے انصاف کا قتل ہوتے دیکھتے رہے ،دوسری طرف میڈیا اس واقعہ کو یہ کہہ کر بلوائیوں کی ڈھارس بندھاتا رہا کہ ”یہ سب عصمت دری کے خلاف عوامی و غم و غصے کا اظہا ر ہے“۔ 
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ متوفی پر بنگلہ دیشی مسلمان ہونے کا الزام زیادہ شدید تھا۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسی واقعہ میںلڑکی کے ایک دوسرے دوست جو ناگالینڈ کا غیر مسلم ہے وہ بھی ایک ساتھ گرفتار کیا گیا تھا لیکن تشدد پر آمادہ اکسائی ہوئی اس بھیڑ نے اس غیر مسلم ناگا کو کوئی گزند نہیں پہنچائی ۔میڈیکل رپورٹ سے بھی یہ ظاہر ہوگیاکہ لڑکی کی عصمت دری نہیں کی گئی تھی۔حال ہی میں دیما پور کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں ریاستی پولیس کو اس پورے واقعے کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران کے علم میں پہلے سے موجودتھا کہ بھیڑکس ارادے سے حرکت کررہی ہے۔ایسے میں یہ سوال بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ دیماپور جیسے چھوٹے سے شہر میں پانچ ہزار نوجوانوں کو اکٹھا کرنے کے پیچھے کون لوگ فعال تھے۔نیز ریاستی سرکار بھی اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔یہ واقعہ کسی اور ریاست اور کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو ملک بھر کی سیاسی جماعتیں اور میڈیا ایک ہنگامہ کھڑاکردیتیں اور ریاستی سرکار کے استعفیٰ کا شدید مطالبہ کرتے مگر حیرت کی بات ہے کہ سیاسی اور سماجی تنظیمیں اس معاملے میں محض رسم اداائیگی تک محدود رہیں۔اور اس ظالمانہ واقعہ کے خلاف ملک کے کسی حصے میں بھی کوئی تحریک کھڑی نہیں ہوئی۔جس طرح دوسال قبل نربھیا عصمت دری معاملے میں سماجی تنظیمو ں نے ایک طوفان بپا کردیا تھا اس طرح کا کوئی منظر اس معاملے میں دیکھنے کو نہیں ملا۔اور سارے موم بتی بردار اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ خود مسلم تنظیمیں بھی معنیٰ خیز خاموشی کا شکاررہیں اور کسی نے بھی ریاستی سرکار کی برطرفی کا مطالبہ نہیں کیا۔انصاف کے دومعیار ملک میں ہمیشہ سے جاری ہیں ۔اس کی مزید ایک مثال یہ واقعہ ہے جس کا تفصیلی پس منظر بھی موجود ہے۔
ناگالینڈ بھارت کی ریاست ہے، 1947میں جب انگریز نے برصغیر کو خیر باد کہا تو ناگالینڈ کے عیسائی انتہاپسند راہنما اے زیڈ فیزو نے اسے ایک الگ مملکت کا درجہ دینے کا اعلان کردیا اور کافی عرصہ تک وہ اپنے قوانین کے تحت مملکت کا نظام چلاتا رہا ۔ بعد ازاں جب بھارتی فوج نے ناگالینڈ کا رخ کیا اور اس ریاست کو بھارت کے ساتھ ملانا چاہا تو ناگالینڈ کے عیسائیوں نے مزاحمت شروع کر دی مگر فوج نے بدستور کارروائی جاری رکھی یہاں تک کہ1960میں ناگالینڈ کے لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور اسے بھارت کا ایک صوبہ بنا دیا گیا مگر ناگالینڈ کے لوگوں نے دلی طور پر بھارت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ لال ڈینگا نے ایک لمبے عرصے تک مسلح جدوجہد کے ذریعہ حکومت ہند کو مجبور کیا کہ وہ ناگالینڈ ہل کونسل کی تشکیل کرے اور اس طرح شیڈول چھ میں ترمیم کرکے بھارت سرکار نے لال ڈینگا کی پرتشدد مزاہمت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اس ریاست کو خصوصی اختیارات دے دیے جن کے تحت ضروری قرار دیا گیا کہ بھارت کے دوسرے علاقوں سے آکر آباد ہونے والوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ، ریاستی سطح پر ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی جاسکتی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگ ناگالینڈ میں زمین ، جائیداد ، دکان اور مکان وغیرہ نہیں خرید سکتے ، سرکاری ملازمت اور دیگر مراعات میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ ناگالینڈ میں نوے فیصد عیسائی آٹھ فیصد ہندو اور صرف دو فیصد مسلمان ہیں۔ ناگالینڈ کی عیسائی تنظیمیں ناگا کونسل ، ناگا گروپ وغیرہ وقتا فوقتا یہاں کی مسلم اقلیت کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ ناگالینڈ ملک کی قبائیلی ریاستوں میں سے ایک ایسی ریاست ہے جس میں 16بڑے قبائل آباد ہیں ۔20لاکھ کی آبادی والی اس ریاست میں ہر مہینے کسی نہ کسی قبیلے کا تہوارمنایا جا تا ہے ۔اسی لئے اس ریاست کو سب سے زیاد پرامن او رخوش مزاج لوگوں والی ریاست سمجھا جاتا رہا ہے مگر گزشتہ 40سالوں سے ناگالینڈ سمیت ملک کی تمام شمال مشرقی ریاستوں میں آرایس ایس انتہائی سرگرم رہا ہے ۔ان ریاستوں میں رہنے والی بیشترعیسائی آبادیوں کو ہندومذہب میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یہ کوشش اس حد تک کامیاب بھی ہوچکی ہے کہ شمالی مشرق کے اکثر قبائل نے ہندومذہب کے لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات اس حد تک استوار کرلئے ہیں کہ ان میں سے اکثر اب خود کو ہندو کہنے لگے ہیں۔اس کی سب سے مشہور مثال آسام کے بو ڈو ہیں جو اصلاً عیسائی تھے اور اب خود کوہندوکہنے لگے ہیں ۔یہی حال ناگالینڈ کے قبائلیوں کا بھی ہے ۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ نہ ت ملک کی عیسائی تنظیمو ں نے اس جانب توجہ دی ہے او رنہ ہی مسلم تنظیمیں اس حقیقت سے کماحقہ واقف ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہی قبائل شمال مشرقی ریاستوں میں رہنے والی معتد بہی مسلم آبادی کے خلا ف ہتھار بکف ہوچکی ہے ۔اور اس تشدد کا جواز صرف یہ مفروضہ ہے کہ ان ریاستوں میں رہنے والے مسلمان غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن ہیں جن کے خلاف آرایس ایس ایک لمبے عرصے تحریک چلاتی رہی ہے مگر انتہائی چالاکی کے ساتھ اعلیٰ ذات ہندو ¿ں کو پیچھے رکھ کر ان قبائلیوں کو آگے کر دیا ہے ۔یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے گجرات میں 2002کے مسلم کش فسادات میں اعلی ذات او رکاروباری ہندوپیچھے رہے اور ہندوقبائیلیو ںکو آگے کر کے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔
شمال مشرقی ریاستو ں میں آسام سب سے بڑی ریاست ہے جہاں 2011کی مردم شماری کے مطابق 34فیصد مسلم آباد ہیں۔ یہ مسلمان لگ بھگ سوا دو سو برس سے یہ یہیں پر مقیم ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں19ویں صدی کے اوائل سے ہی یہاں بنگالی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ 1826میں برطانیہ نے پہلی اینگلو برمی لڑائی میں مقامی فوج کو شکست دی اور ”معاہدہ یندابو“ کے تحت آسام کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس وقت بھی مشرقی بنگال سے ہزاروں کی تعداد میں بنگالی بولنے والے مسلمان منتقل ہوگئے تھے۔ مقامی افراد کے علاوہ انگریزوں نے کم اجرت والے مزدوروں کے حصول کے لئے ان بنگالیوں کو آنے سے روکا نہیں تاہم 20ویں صدی کی دوسری دہائی تک ان بنگالی مسلمانوں کے خلاف مقامی عوام میں سیاسی تحریکات شروع ہوگئیں جس کے بعد بنگالی مسلمانوں کی آبادی پر پابندی کا مطالبہ شروع ہوا۔ آسام میں جو بنگالی مسلمان ہیں انہیں پناہ گزین کہنا یا غیر قانونی باشندے قرار دینا سب سے بڑا ظلم ہے کیوں کہ یہ وہی بنگالی مسلمان ہیں جنہوں نے 1947میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی اور تقسیم وطن سے پہلے ہی سے آسام کے ناگاو ¿ں، کمروپہ، گول پارہ اضلاع میں مسلمان آباد تھے۔ ان کے خلاف جو تحریکات چلائی جارہی ہیں وہ صرف اور صرف مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہیں۔ حالانکہ آسام میں مسلمانوں کی آبادی 30.92فیصد ہے۔ اور ضلع دھوپری میں 74.29فیصد، گول پارہ میں 53.71فیصد، بار پیٹا میں 59.36فیصد مری گاو ¿ں میں 47.58، ناگاو ¿ں میں 50.99، کریم گنج میں 52.30، ہیلاکنڈی میں 57.99فیصد، کچر میں 36.13فیصد، دارنگ میں 35.54فیصد ، گیگاو ¿ں میں 38.5 فیصد مسلمان آباد ہیں۔
آزادی ہند اور تقسیم وطن کے وقت سے ہی آسام میں جو بنگالی مسلمان تھے انہوں نے اپنی علاحدہ شناخت نہیں بنائی بلکہ انہوں نے مقامی عوام کی طرح اپنی زبان کو آسامی ہی رکھا۔ اس کا ثبوت صرف ایک ضلع دھوبری کافی ہے جہاں مسلم آبادی 74.29فیصد ہے اور جن کی مادری زبان آسامی ہے‘ ان کا فیصد 70.07 ہے۔ آسام کے مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے آسامی تہذیب و ثقافت کو اختیار کیا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف مسلسل پ ±رتشدد تحریکات چلائی جاتی رہی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسی اکثر تحریکیں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے شروع کی جاتی ہیں۔اور ان کو سیاسی لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔1979میں بنی آل آسام اسٹوڈنٹ یونین نے اس تحریک کو تشدد آمیز تحریک کی صورت دی ۔بندوقوں اور بموں کے سہارے آخر کار راجیو گاندھی کو 1985میں آسام معاہدہ کرنے پر مجبور کیا۔اور پھر یہ تنظیم اسم گن پریشد کے نام سے ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل ہوگئی ۔اور اس کا صدر آسام کا وزیراعلی بن گیا جبکہ اس کے علی الرغم آل آسام مائناریٹیز اسٹوڈنٹس یونین بھی بنی جس نے اس تحریک کا مقابلہ کرنے کی حتی المقدور کوشش کی مگر آخر کار بے اثر ثابت ہوئی۔اس کی وجہ آسام کے مسلمانو ں کی ناخواندگی اور آسام کے مسلم لیڈروں کی خودغرضی تھی جنہو ںنے اپنی ذاتی اغراض کی خاطر ملی مفادات کو قربان کیا ۔اپنی سیاسی تنظیمیں بنائیں اور اسامی مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ایوان اقتدارتک تو پہنچے مگر ارباب اقتدار سے سانٹھ گانٹھ کرکے اسامی مسلمانوں کی شہریت کے مسئلے کو مزیدپیچیدہ کردیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیماپور کے اس بے ایمانہ قتل کے بعد بھی آسام سے تین ممبران پارلیمنٹ کو جتانے والی بدرالدین اجمل کی پارٹی یوڈی ایف خاموش تماشائی بنی رہی ۔سید فخرالدین کاتعلق آسام کے براک ویلی کے کریم گنج ضلع ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے بدرالدین اجمل کے بھائی سراج الدین اجمل کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔
اسی دوران شمالی آسام کے بوڈو قبائلیوں نے بھی علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کی اور بوڈو مطالبات کے پیش نظر 13مئی 2003 کو بوڈولینڈ ٹیری ٹوریل کونسل BTC کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سیاسی طور پر بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ کا اس پر تسلط ہے۔ 2006کے الیکشن میں فرنٹ نے کامیابی حاصل کی اور کانگریس کے ساتھ مفاہمت کرکے اپنے موقف کو مستحکم کیا۔ 2010کے انتخابات میں بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ نے کانگریس کی حمایت سے کامیابی حاصل کی اور کابینہ میں بھی دو نشستیں حاصل کرلیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ بوڈو قبائیلوں کو کانگریس کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے اور اپنے سیاسی مفادات کیلئے وہ اس کی کوتاہیوں اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جہاں ریاست میں یہ پارٹی کانگریس کی حلیف ہے وہی مرکزمیں یہ پارٹی این ڈی اے کی حریف ہے کیونکہ 2003میں اسی این ڈی اے بی ٹی سی قائم کرنے میں اس پارٹی کی مددکرتے ہوئے بی ٹی سی کی 75نشستوں کو بوڈو قبائل کے لئے مخصوص کردیا تھا جبکہ کہ متذکر بوڈو لینڈ کے چار اضلاع میں بوڈو کی آبادی 27فیصد سے زیادہ نہیں ہے ۔یہ وہی بو ڈو قبائل ہیں جنہوں نے قبل رمضان کے مہینے میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکردیا تھا ۔100سے زائد مسلمانوں کو قتل کیااور لاکھوں مکانوں کونذرآتش کردیا تھا۔اس وقت بھی آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوئی نے یہ اعتراف کیا تھا کہ بوڈو کے پاس پانچ ہزار اے کے ۔47رائفل موجود ہیں ۔انہیں چھیننے سے قاصر ہیں۔موجودہ قتل انہیں سب حالات کا پرتوہ ہے ۔شمال مشرقی ریاستوں میں بنگلہ دیشی کے نام پر جب تک یہ فرقہ وارانہ اور پرتشدد تحریک جاری رہے گی او رکانگریس و بی جے پی ایک خاص حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس تحریک کی پشت پناہی کرتے رہیں گے اور اس تحریک کو قانونی ،سماجی اور عسکری تعاون فراہم کرتے رہیں گے تب تک قتل عام کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔بلکہ اس بات کا خدشہ رہے گا اور ناگالینڈ کے واقع نے اس خدشے کو مزید مضبوط کردیا ہے کہ اب یہ تحریک آسام کی حدودسے نکل کرناگالینڈ ،تریپورہ ،میگھالیہ اور منی پور میں بھی اپنے اثرات کو وسیع ترکرتی جارہی ہے۔مسلم تنظیموں کے لئے یہ لمحہ ¿ فکر ہونا چاہئے کہ ان ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت اور قانونی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ان کے پاس کیا کوئی ایماندارانہ اور مخلصانہ حکمت عملی موجودہے۔

Friday, March 13, 2015

My Letest Pic

 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
 Meraj Noorie
Meraj Noorie

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...