Friday, July 11, 2014

مذاق تو اچھا کرلیتے ہیں وزیراعظم صاحب

معراج نوری 
حا لیہ دنوں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران جب راقم الحروف اپنے آبائی وطن بہار میں تھا ،اس وقت میری ملاقات سیاسی پارٹی کے ایک امیدوار سے ہوئی جو غالباًمیرے پارلیمانی سیتامڑھی حلقہ سے امیدوار تھے۔ عوامی رابطہ مہم کے دوران رات کے سناٹے میںاس امیدوار نے دوران گفتگو ایک بات کہی جس نے آج مجھے اس مضمون کولکھنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو اتنی سمجھ کہا ں ہے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کون ہماری ترقی چاہتا ہے اور کون ہمیں ’ذہنی غلام‘بناکر اپنی سیاسی روٹی سیکنا چاہتا ہے۔اب سچر کمیٹی کو ہی لے لیجیے،حکومت وقت نے اس کمیٹی کی تشکیل اس لیے نہیںدی تھی کہ اس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کرکے اس کا ازالہ کرے تاکہ مسلمان قومی دھارے(مین اسٹریم) میں آجائے بلکہ اس کمیٹی کی تشکیل دے کر حکومت وقت نے مسلمانوں کو اس کی اوقات بتانے کی کوشش کی کہ دیکھو تم اقتصادی ،معاشی ،سماجی اور تعلیمی سطح پر سب سے نچلے پائیدان پر ہو۔بھلائی اسی میں ہے کہ اپنی اوقات پر قائم رہ کر ہندوستانی جمہوریت سے ملنے والی ’خیراتی عنایت ‘اور’ تذلیلی رعایت ‘پر اکتفا کرو۔حقیقت بھی ہے کہ جس شور کے ساتھ سچر کمیٹی کی تشکیل ہوئی اور اس کی سفارشات آئیں اس کے حساب سے اس پر عمل نہیں ہوا جب کہ اس رپورٹ کو آئے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔اگر آپ نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ سیاسی بازیگر موقع مناسبت سے اس کاذکر ضرور کرتے رہے اور دعویٰ کرتے رہے کہ ۹۰؍فیصد سفارشات نافذ ہوگئیں ،ہم نے اس کے نفاذ میںکوئی کسرنہیں چھوڑی،اس سے مسلمانوں کی حالت بہتر ہوئی ہے اوروہ ترقی کررہاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اس کمیٹی کو اور نہ ہی اس کی سفارشات کو کوئی توجہ دی گئی اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ۔صرف زبانی جمع خرچ کیا گیا اور وہ بھی اکثر اوقات انتخابات کے وقت تاکہ اس کی دہائی دے کر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کیا جاسکے۔اگر ہم آزادی کے بعد سے اب تک کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ یہ رعایت اور عنایت تو ہمارا حق ہے جو نہ چاہ کر بھی ہندوستانی حکومت ہمیں فراہم کرنے پور مجبور ہے ۔فرق اتنا ہے کہ جو چیز ہمارا حق ہے اسے ہمیں سینے پر پتھر رکھ کر دیا جاتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ہم پر احسان کررہے ہیں۔خواہ وہ مذہبی آزادی ہو،بنیادی حقوق ہوں یا پھر نوکری میں نمائندگی ۔یہ سب چیزیں ہمیں ہندوستانی آئین فراہم کرتا ہے نہ کہ کوئی سیاسی پارٹی اور سیاست داں ،لیکن وقت وقت پر ہمیں یہ احساس ضرور دلایا جاتا ہے کہ ہمیں ہماراحق نہیں بلکہ ’خیرات ‘دیا جارہا ہے۔
دراصل ان سب باتوں کا ذکر کرنے کا میرا مقصد آئندہ پانچ برسوں تک مسلمانوں کو درپیش صورتحال سے آگاہ کرانا ہے ۔آئیے اس نکتہ پر جو اس مضمون کاپلاٹ ہے۔بات یہ ہے کہ عام انتخابات میں غیر متوقع فتح حاصل کرنے کےساتھ اقتدار میں آئی بی جے پی اوراس کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں ایوان بالا اور ایوان زیریں میں صدر مملکت پرنب مکھرجی کی مشترکہ تقریر پر بحث کے دوران اپنی لمبی چوڑی اور فلسفانہ تقریرمیں یو تو ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان کے لیے بالخصوص کچھ ایسا نہیں کہا جس کی رو سے کم سے کم یہ کہا جاسکے کہ یہ خوش آئند ہے کیونکہ اولاًتو انہوں نے ایجنڈے میں شامل کرنے کے طورپرلفظ مسلمان کے ’میم ‘تک کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے ’الپ سنکھیک‘کے زمرے میں شامل کرکے اوردیگر اقلیتوںکی طر ح مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے زبانی دعوے کیے جو آزادی کے بعد سے آج تک ہونے والے صدارتی خطبات کا حصہ ہواکرتے ہیں جو نہ چاہ کر بھی تقریر کا ایک پیراگراف بن جاتا ہے۔اس میں کوئی نئی بات نہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ اسی بحث کے دوران وزیراعظم نریندرمودی نے ایک جگہ لفظ مسلمان کا استعمال کیا جو ’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ ‘کے مصداق تھا۔انہوں نے کہا کہ جب میرالڑکپن تھا او رمیں اسکول جایاکرتاتھا اس وقت ہمارے راستے میں ایک مسلمان تھاجس کی سائیکل مرمت کرنے کی دکان تھی ۔آج جب میں چائے بیچ کر وزیر اعظم بن گیا اس سائیکل مرمت کرنے والے مسلمان کی تیسری نسل آج بھی سائیکل مرمت ہی کرتی ہے۔حالانکہ اس وقت جب وزیراعظم نریندرمودی کی زبان سے اس واقعہ کابیا ن ہوا اس وقت وہ ملک کے عوام کی ترقی اور اس تعلق سے اپنا ایجنڈہ پیش کررہے تھے۔اگر اس حصے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس میں سے دو باتیں نکلتی ہیں۔پہلی یہ کہ شاید وزیراعظم صاحب کی نظر میں مسلمان ترقی کرنا ہی نہیں چاہتا،دوسری یہ کہ وہ اس قابل نہیں کہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو کرملک کے مین اسٹریم میں اپنی جگہ بنا پائے۔یعنی کہ مسلمانوں کی تیسری کیا دس نسلیں بھی اسی راہ پرگامزن رہیں گی۔اگر مان بھی لیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا جو اوپر کہا گیا ہے توبھی ہم کیسے یقین کرلیں کہ وہ اس مثال کو سامنے رکھ کر ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں کی ترقی کا تانہ بانہ بن رہے ہیں۔اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ وہ اس ایک واقعہ کو نظیر کے طور پر پیش کرکے اس سے سبق لیتے ہوئے آئندہ ہمارے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔اگر واقعی انہوں نے اس مسلمان کی تیسری نسل کو اسی طرح تنگ حال دیکھا جسے انہوں نے پورے ہندوستان کو مثال کے طور پر بیان کیا او راس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی توہم جیسا انسان تو اسے صرف اور صرف طنز ہی گردانے گا ،اس کا جواز بھی ہے۔اب ذرا غور کریں کہ جس گجرات میں امبانی ،اڈانی ،ٹاٹا ،بڑلااور دیگر صنعت کاروں کو کوڑیوں کے بھاؤزمینیں دی جاتی ہوں ،لاکھوں کروڑوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہواور پھر اپنے یہاں صنعت قائم کراکے اس ریاست کو ترقی یافتہ بناکر پیش کیا جاتا ہو او راس ’ترقی کے ماڈل ’کا ڈھنڈورہ پیٹ کر پورے ہندوستان سے ووٹ بٹورا جاتا ہو کیا اس گجرات میں وہاں کے وزیر اعلی نریندر سائیکل کی مرمت کا کام کرنے والے اس مسلمان کو دس بیس لاکھ کا قرض دے کر اسے ایک سائیکل کی ایجنسی دلاکر ’ہمدردی ماڈل ‘کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹ سکتے تھے۔لیکن محترم وزیراعظم صاحب کو یہ گوارہ نہیں، کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے اور وزیراعظم صاحب کی نظر میں اس کی اوقات روڈ پر رہ کرہی زندگی گزارنے کی ہے ۔اس لیے اسے ویسے ہی رہنے دیا جائے اور اس کی اس بے بسی کا فلسفانہ اظہار کرکے نام نہاد ہمدردی بھی حاصل کی جائے اور مسلمانوں کو اس کی اوقات بھی بتائی جائے ۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آزادی کے بعد سے جس ہندوستان میں مسلمان دلتوں سے بھی بدتر ہے کیا صرف اس کا مذاق ہی بنے گا یا پھر اسے مین اسٹریم میں لانے کی کوشش کی جائیگی؟کیا بلند وبانگ دعوے کے ساتھ مرکز میں برسراقتدار آئی بی جے پی اور اس کے سپہ سالار وزیراعظم نریندرمودی بھی مسلمانوںکو ذہنی طورپر غلام بناکررکھنے کے ہی خواہاں ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے بعدفائلوں کی ورق گردانی کے لیے جس عینک کا استعمال کیا جاتا ہے اس عینک سے آئین ہند میں مسلمانوں کاکوئی حق نظر نہیں آتا۔سوال یہ بھی ہے کہ آیا جس ہندوستان کو مہاتما گاندھی،پنڈت جواہر لال نہرو،سردار پٹیل کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد،مولاما محمد علی جوہر اورسرسید احمد نے انگریزوں کے چنگل سے آزاد کرایا تھا آج آزادہندوستان میں اس کی نسل کو وہ موقع بھی فراہم نہیں کیا جائے گا کہ جس کی بدولت وہ خودکو بدل کر قومی دھارے میںخود کوکھراکرسکے۔یا پھر یہ کہ جس طرح گجرات میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرکے اس کی ترقی کی رفتار روکی گئی اسی طرح باقی ماندہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اس کے آئینی حق سے محروم کرکے اس کی ترقی کی رفتارروکی جائے گی۔ 

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...