Thursday, May 30, 2013

نوجوانوں کے لیے موبائل فون کتنا ضروری؟

موبائل فون کی ضرورت اور اہمیت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ موبائل فون جو کبھی تعیش کے زمرے میں آتا تھا آج ہماری ضروریات ِزندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ لیکن موبائل فون نوجوانوں میں کتنا مقبول ہے اس بات کا اندازہ ایک سروے رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک برطانوی موبائل انشورنس کمپنی کی جانب سے حال میں لیے جانے والےسروے میں نوجوانوں سے موبائل فون کے استعمال اور اس کی ضرو
رت اور اہمیت کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ویب سائٹ وی او اے ڈاٹ کام کے مطابق اس سروے میں 18 سے 30 برس کے 2570 افراد کو شامل کیا گیا جن میں سے دو تہائی افراد نے کہا کہ وہ موبائل فون کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔کمپنی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اگر انھیں ایک ہفتے کے لیے موبائل فون رکھنے کی شرط پر اپنی کسی چیز کو چھوڑنا پڑے تو وہ کون سی چیز ہو گی؟اس سوال کے بڑے دلچسپ جوابات دئیے گئے 62 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ ایک ہفتہ اپنے دوستوں کے بغیر گزار سکتے ہیں لیکن ایک ہفتے کے لیے موبائل فون نہیں دے سکتے۔ 45 فیصد کا جواب تھا کہ وہ بغیر کھائے پیئے تو گزارا کر سکتے ہیں لیکن موبائل فون کے بغیر بالکل نہیں رہ سکتے ہیں۔71 فیصد کے مطابق وہ اپنی پیاری سواری کار یا بائیک کو بھی موبائل فون رکھنے کی شرط پر ایک ہفتے کے لیے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔اسی طرح 81 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے پسندیدہ ٹی وی شوز یا فلم نہیں دیکھیں گے جبکہ 55 فیصد کے لیے اپنا بیڈروم ایک ہفتے کے چھوڑنا آسان ہے لیکن انھیں اپنا موبائل فون اپنے سرہانے ہی چاہیے۔ سروے میں پوچھا گیا کہ وہ موبائل فون کا کتنا استعمال کرتے ہیں؟ 53 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ اپنے موبائل فون کے شیدا ہیں اور ہر وقت اپنے موبائل فون کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ 27 فیصد کے مطابق وہ موبائل فون بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن حد سے زیادہ بھی استعمال نہیں کرتے ہیں۔ 10 فیصد نے کہا کہ وہ اسے صرف ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتے ہیں جبکہ 9 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ کبھی کبھار ہی موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔
 جب ان نوجوانوں سے سوال کیا گیا کہ موبائل فون ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟نوجوانوں کی 65 فیصد تعداد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ موبائل فون کا ان کے روزمرہ معاملات میں اس قدر عمل دخل بڑھ چکا ہے کہ اب وہ اس کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ 22 فیصد کی رائے میں وہ اپنے موبائل فون پرضرورت سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔10 فیصد کے مطابق ان کے لیے موبائل فون کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے وہ اسے رکھ بھی سکتے ہیں اور چھوڑ بھی سکتے ہیں۔1 فیصد نے کہا کہ وہ اسے صرف ایک ضرورت کی چیز سمجھتے ہیں جبکہ 1 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ موبائل فون کے بغیر باآسانی رہ سکتے ہیں۔


تاریخی نالندہ یونیورسٹی کی یاد میں

یورپ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے بھی کئی صدی قبل بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کی نالندہ یونیورسٹی تعلیم و تعلم کا ایک اہم اور عالمی مرکز ہوا کرتی تھی۔پانچویں صدی میں قائم ہونے والی اس یونیورسٹی میں ایشیا کے اکثر علاقوں سے لوگ پڑھنے کے لیے آتے تھے لیکن 1193ء میں یہ بیرونی حملوں کا شکار ہو گئی۔اب 21 ویں صدی میں بعض دانشوروں نے اس قدیم یونیورسٹی کے وقار کو از سر نو بحال کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
دانشوروں کے اس گروپ کی قیادت نوبل انعام یافتہ پروفیسر امرتیہ سین کر رہے ہیں۔امرتیہ سین اور ان کے ساتھی اس قدیم یونیورسٹی کے کھنڈرات سے ملحق ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس نئی یونیورسٹی میں تمام جدید مضامین کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے لیکن بہار جیسی غریب اور پسماندہ ریاست میں ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی بنانا بہت مشکل کام ہے۔
امریکہ کے بوسٹن کالج کے پروفیسر فلپ آلٹ بیک اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں،’کیا اعلیٰ سطح کے طالب علم اور اساتذہ دیہی بہار کی طرف متوجہ ہوں گے؟‘لیکن نالندہ یونیورسٹی کے چانسلر امرتیہ سین ان سب قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمارا کام نئی یونیورسٹی قائم کرنا اور پڑھائی شروع کر دینا ہے۔ یہ ایک شروعات ہے۔ قدیم یونیورسٹی تقریبا 200 سال میں اپنی شہرت کی بلندیوں پر پہنچی تھی۔ ہم لوگوں کو شاید 200 سال نہیں لگیں گے لیکن کچھ دہائیاں تو لگ جائیں گی۔‘
بھارت، چین، سنگاپور، جاپان اور تھائی لینڈ نے سنہ 2006 میں قدیم نالندہ یونیورسٹی کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا، جس کے بعدامریکہ اور روس جیسے ممالک نے بھی اس کی حمایت کی۔نئی یونیورسٹی کو راجگیر میں بنایا جا رہا ہے جو قدیم یونیورسٹی سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سب سے پہلے تاریخ اور ماحولیات کی تعلیم شروع ہوگی جس کے لیے دنیا بھر میں اشتہار دیا جا چکا ہے۔
یونیورسٹی میں پہلا بیچ سال 2014 سے شروع ہوگا۔یونیورسٹی کے لیے زمین بہار حکومت نے دی ہے جبکہ باقی اخراجات کے لیے مرکزی حکومت اور کئی دوسرے ممالک امداد کر رہے ہیں۔پروفیسر سین کے مطابق یونیورسٹی کی دھیرے دھیرے تعمیر ہوتی رہے گی اور دریں اثنا پڑھائی بھی جاری رہے گی۔
پروفیسر سین کا کہنا ہے کہ نئی یونیورسٹی کی ترغیب ایشیائی ریاستوں سے ملی ہے لیکن تعلیم، موضوع اور ماہرین کے معاملے میں یہ عالمی سطح کی ہوگی۔
پانچویں صدی میں قائم نالندہ یونیورسٹی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہاں تقریباً 10 ہزار طلبہ ہوا کرتے تھے۔ طلبہ میں زیادہ تر چین، جاپان، کوریا اور دوسرے ایشیائی ممالک سے آنے والے بدھ مت کے پیروکار ہوا کرتے تھے۔
 چینی راہب سیاح ہوین سانگ نے ساتویں صدی میں نالندہ میں تعلیم حاصل کی تھی اور انہوں نے اپنی کتاب میں یونیورسٹی کی خوبصورتی کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں نو منزلہ لائبریری کا ذکر بھی کیا ہے۔جنوری 2013 میں جے پور ادبی میلے میں تبتیوں کے مذہبی گرو دلائی لامہ نے کہا تھا کہ ’بدھ مت کے تمام علم کا ذریعہ نالندہ یونیورسٹی تھی۔‘
دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں کے ماہر تصور کیے جانے والے پروفیسر آلٹ بیک کو اس نئی یونیورسٹی کے عالمی مقام حاصل کرنے پر شک ہے۔ان کا کہنا ہے؛ ’نالندہ کچھ بڑے ماہرین اور دانشوروں کو ضرور اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے لیکن اساتذہ اسی جگہ رہنا چاہتے ہیں جہاں اعلیٰ سطح کا بنیادی ڈھانچہ ہو۔ وہ کالج کے احاطے کے باہر بھی دانشوروں کا ماحول چاہتے ہیں۔‘دوسری جانب نالندہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے رکن اور بھارتی پارلیمان کے رہنما نند کشور سنگھ کہتے ہیں کہ نالندہ یونیورسٹی کی وجہ سے اس علاقے کو ترقی ملےگی۔

सुशासन की त्रासदी

मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...