ایک اعتبار سے دیکھاجائے تو زندگی کے دو قطبین یا دو Poles ہیں۔ایک ضمیر اور دوسرا مفاد۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گیت ضمیرکے گاتاہے مگر زندگی اپنے مفادات کے تحت بسرکرتاہے۔ اس کے ہاتھ میں پرچم ضمیرکا ہوتاہے لیکن پیش قدمی وہ مفادات کی جانب کرتاہے۔ اس کی آنکھوں میں خواب ضمیرکے ہوتے ہیں مگر اس کی زندگی پر حکومت مفادات کی ہوتی ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال فیض احمدفیض ہیں۔ فیض احمد فیض آزادی کے شاعرتھے۔ مزاحمت کے شاعرتھے۔ انقلاب کے شاعرتھے۔ انہوں نے ویت نام میں امریکا کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی۔ اس کے لیے نغمے لکھے۔ مضامین تحریرکیے ۔ بیانات جاری کیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ویت نام ایک کمیونسٹ ملک تھا اور امریکا نے ایک کمیونسٹ ملک کی حرمت پامال کی تھی۔ چنانچہ ان کے لیے ویت نام کی مزاحمت باطل کے خلاف حق کی مزاحمت تھی۔ غلامی کے خلاف آزادی کی معرکہ آرائی تھی۔ مفادات کے خلاف ضمیرکی جنگ تھی۔ فیض احمد فیض نے فلسطین کی تحریک مزاحمت کی حمایت کی اس کے لیے گیت لکھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطین کی تحریک آزادی کے قائد یاسرعرفات سوشلسٹ تھے اور ان کی شہرت روس نواز رہنما کی تھی۔ لیکن سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کی تو فیض کا یہ کردار قصہ پارینہ بن گیا۔ انہوں نے افغانستان کی جدوجہد آزادی کے لیے نہ کوئی نظم لکھی۔ نہ کوئی مضمون تحریرکیا نہ کوئی بیان جاری کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ افغانستان میں مداخلت کرنے والا سوویت یونین فیض کا نظریاتی کعبہ تھا اور اس کے خلاف آزادی کی جدوجہدکرنے والے اسلام کا پرچم لیے کھڑے تھے۔ فیض سے اس بارے میں کئی بار سوالات بھی کیے گئے مگر وہ ہربارگول مول جواب دے کر رہ گئے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کو پوری مغربی دنیاکی زبردست حمایت حاصل ہوئی۔ مغربی دنیا کے سیاست دان‘ دانشور اور صحافی سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو مجاہدین کہتے۔ انہیں فریڈم فائٹرکہہ کر پکارتے۔ گلبدین حکمت یاراوراحمد شاہ مسعود امریکا اور یورپ کے پریس میں ہالی ووڈ کے سپراسٹارزکی طرح رپورٹ ہوتے۔ امریکا کے صدر رونلڈ ریگن نے ایک بار مجاہدین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ مجاہدین کا اخلاقی مقام امریکا کے بانیان کے مساوی ہے۔ لیکن افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے ساتھ ہی امریکا اور یورپ کے رہنماوں ‘دانشوروں اور صحافیوں کے اذہان پر ان کے نام نہاد قومی مفادات نے قبضہ کرلیا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گردبن گئے۔ حریت پسندرجعت پسند کہلانے لگے۔ امریکا کے بانیوں کے مساوی مقام کے حامل لوگ درندے بن گئے۔ انسانی تہذیب کی بقاءکی جنگ لڑنے والے تہذیب دشمن ٹھہرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کے قلوب اور اذہان پر ضمیرکے بجائے مفادات کا غلبہ ہوگیا۔ مفادات کا قطب ضمیر کے قطب کو نگل گیا۔ یہ مجموعی طورپر انسانیت کی ایک افسوسناک تصویرہے۔ لیکن زندگی کبھی استثنائی مثالوں سے خالی نہیں ہوتی۔ امریکا کی 30 کروڑ کی آبادی میں ایک نوم چومسکی بھی ہوتے ہیں۔ وہ امریکا کے چند ممتاز دانشوروں میں سے ایک ہیں۔ وہ نسلی اعتبارسے یہودی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کا کہناہے کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی بدمعاش ریاست ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ امریکا کے توسیع پسندانہ عزائم نے دنیا کو ظلم اور جبرسے بھردیاہے۔ وہ نائن الیون کو شک وشبے کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عراق اور افغانستان کے خلاف امریکا کی جارحیت کا کوئی جواز نہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف امریکا کے عزائم کو تشویش کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس جتنے مذمتی الفاظ تھے انہوں نے امریکا کے خلاف استعمال کرلیے ہیں۔ یہ قومی مفادات کے قطب پر ضمیرکے قطب کے غلبے کا منظرہے۔ پاکستان میں امریکا کی سابق سفیر وینڈی چیمبرلن سے ایک بار صحافی نے سوال کیا کہ آپ امریکا پر نوم چومسکی کی تنقیدکے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں۔ وینڈی چیمبرلن نے اس سوال کے جواب میں کہاکہ نوم چومسکی ایک ایسے انسان ہیں جس کا کیریئر ختم ہوچکاہے۔ یعنی نوم چومسکی کا زندگی میں کوئی مفاد باقی نہیں رہا۔ چنانچہ وہ بے خوف ہیں اور ان کے جو جی میں آتاہے کہہ دیتے ہیں۔ تجزیہ کیاجائے تو یہ وہ طرز فکر ہے جو انسانوں کو مفادات کے دائرے کے باہرنہ دیکھ سکتاہے نہ سمجھ سکتاہے۔ لیکن نوم چومسکی سے زیادہ بڑی مثال ارون دھتی رائے کی ہے۔ ارون دھتی رائے ایک ارب 20 کروڑ کی آبادی کے ملک بھارت کی شہری ہیں اور اتنی بڑی آبادی کے ملک میں ضمیرکی سربلندی کی اب کوئی روایت موجود نہیں۔ بھارت پر اندھی قوم پرستی کا غلبہ ہے اور وہاں ضمیرکا ایک چراغ چلانے کا مطلب درجنوں سرخ آندھیوں کو دعوت دینا ہے۔ اس کے باوجود ارون دھتی رائے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف سب سے بڑی چشم دید گواہ بن کر ابھری ہیں۔ انہو نے حال ہی میں نیویارک میں ہونے والی ایک تقریب میں کشمیرکے حوالے سے بھارت ہی کو نہیں پوری مغربی دنیا کو بھی آئینے کے سامنے لاکھڑا کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حق خود ارادی کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت 7 لاکھ فوجیوں کے ذریعے اہل کشمیر کی زندگی کو جہنم بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کوئی لفظ چبائے بغیر کہاکہ مغربی دنیا کشمیرمیں بھارت کے مظالم سے صرف نظرکیے ہوئے ہے اور اس کے لیے انسانی حقوق نہیں بھارت کی منڈی اہم ہے۔ تقریب سے سید علی گیلانی خطاب کرتے تو وہ بھی اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے جو ارون دھتی رائے نے کہا۔ اس تناظرمیں دیکھاجائے تو نوم چومسکی کی اخلاقی حیثیت 30 کروڑ امریکیوں سے زیادہ ہے اور ایک ارون دھتی رائے ایک ارب 30 کروڑ بھارتیوں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے کے ضمیرکی آواز کا مفہوم کیاہی؟۔ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے سیکولر ذہنی سانچے کے حامل ہیں اور ضمیرکی آواز مذہبی تصور اورمذہبی احساس کے سوا کہیں سے ابھرہی نہیں سکتی۔ غورکیاجائے تو یہ حقیقت عیاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ مذہب صرف چند تصورات کانام نہیں۔ مذہب انسان کی ساخت یا اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔ انسان مذہب کو تصور کی سطح پر مستردکرسکتاہے مگر وہ اپنے وجود کی ساخت کو مستردنہیں کرسکتا۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیاجاسکتاہے کہ ایک بار صحابہ کرام نے رسول اکرم کو کسی عرب شاعر کے ڈیڑھ سو دوسو اشعارسنائے۔ حضوراکرم نے اشعارسن کر فرمایا کہ یہ شاعر اسلام لانے کے قریب تھا۔ نوم چومسکی ارون دھتی رائے کا معاملہ بھی یہی ہے کہ وہ تصورکی سطح پر اسلام سے بہت دورکھڑے ہیں لیکن داخلی تجربے کی سطح پر وہ اسلام سے بے حد قریب ہیں۔ |
Friday, November 25, 2011
ضمیر اور مفاد
Thursday, November 24, 2011
الوداع بلاگنگ!
کیا آپ بلاگ لکھتے ہیں یا بلاگ لکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس سوال کا جواب منفی ہو۔ ساری دنیا میں بلاگنگ کو لے کر ایک بے اعتنائی کا احساس دکھائی دے رہا ہے اور بھارتی بھی اس سے اچھوتے نہیں ہے۔ ابتدائی دور میں بلاگنگ کو بڑی پبلیسٹی کچھ سےلےبرٹی بلاگروں نے دلایا۔ اس کے علاوہ بلاگنگ کے تئیں وقف لوگوں نے اسے نئی سمت دی۔ مین اسٹریم کے میڈیا میں بلاگنگ نے اچانک ایک نظر بٹوری اور اچانک کرےز پیدا ہوا۔ گزشتہ دو سال میں حالات مکمل طور پر بدل گئے نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر سےلےبرٹی بلاگر بلاگنگ کو الوداع کہہ گئے ہیں۔ بالی وڈ شخصیات میں امیتابھ بچن اور منوج باجپےئی کو چھوڑ دیں تو تقریباً باقی تمام سےلےبرٹی نے عرصہ سے بلاگ پوسٹ نہیں لکھے۔ مین اسٹریم کے میڈیا میں شائع ہونے والے بلاگ فہرست پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی چند بلاگز کو ہی مستقل جگہ مل پا رہی ہے۔ یعنی باقاعدہ بتاریخ ہونے والے بلاگ کی تعداد سمٹی ہے۔ پوری دنیا میں گوگل پر تلاش جانے والے الفاظ کا مطالعہ کرنے والے گوگل انسائٹ کے مطابق سال 2010 میں بلاگ کی ورڈ کی تلاش میں 50 فیصد کی کمی آئی ہے۔ بلاگ کی تعداد میں بھی اضافہ کی رفتار سست ہوئی ہے۔ بلاگ کی تعداد پر نظر رکھنے والے بلاگ پلس کے مطابق سال 2010 میں بلاگ کی تعداد 152 ملین تھی جو 2009 میں 126 ملین تھی۔ یعنی ایک سال میں بلاگ کی تعداد میں 21 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اب اس کے برعکس فیس بک ، ٹویٹر صارفین کی تعداد پر نظر ڈالیں تو حیرت انگیز اضافہ دکھائی دیتاہے۔ پوری دنیا میں فیس بک کے صارفین کی تعداد اب 80 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جو جون 2009 میں محض 25 کروڑ تھی۔ بھارت میں ہی 2008 میں فیس بک کے صرف 16 لاکھ کھاتے تھے جو اب تین کروڑ 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ 2009 سے 2010 تک ٹویٹس کی تعداد میں 160 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ، لیکن مسئلہ اعداد و شمار کا نہیں بلاگنگ کے سمٹتے دنیا کا ہے۔ بلاگنگ کے تئیں وقف یا اسے مقبول بنانے والے لوگوں نے لکھنا نہیں چھوڑا ہے البتہ انہوں نے پلیٹ فارم بدل دیا ہے۔ وہ فیس بک جیسی سوشل نےٹورکنگ سائٹ یا ٹویٹر جیسے مائکروبلاگنگ سائٹ پر آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نئے پلیٹ فارموں کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ بڑی کمپنیوں نے بھی اپنے بلاگ اپ ڈیٹ کرنا بند کر دیا ہے اور ان کے مرکز میں فیس بک ، ٹویٹر ، گوگل پلس اور یو ٹیوب جیسے پلیٹ فارم آ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم الفاظ میں اپنی بات رکھنے کے خواہش مند لوگوں کے لئے سوشل نےٹورکنگ سائٹ بلاگ سے بہتر متبادل ہے۔ یہاں انہیں لکھنے سے پہلے مزید ماتھاپچچی نہیں کرنی پڑتی۔ کئی بار لوگوں کے خیال الگ نظر آتے ہیں۔ اس کی انہیں کوئی فکر بھی نہیں ، کیونکہ وہ مصنف نہیں ، فکر مند نہیں ہے۔ وہ صرف اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں اور سوشل نےٹورکنگ پر بات پر ملتی فوری ردعمل ان کا حوصلہ بڑھا دیتی ہیں۔ ویسے فیس بک یا ٹویٹر بھی بلاگنگ کی ہی چھوٹی شکل ہے ، لیکن جس بلاگنگ کی ہم بات کر رہے ہیں وہ مصنف کو بہتر طور پر خیال کو ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہاں تحریر میں کم از کم زبان سٹائل اور خیالات کی تشکیل کی توقع رہتی ہے۔ اب اس بات پر بحث ہونی چاہئے کہ کیا بلاگنگ کو بچانے کی کوشش ہونی چاہئے اور کیا بچانا ممکن ہے۔ یوں بلاگ کا وجود کبھی ختم نہیں ہو سکتا ، کیونکہ 140 حروف یا چند سطریں ایک مضمون کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ بہت ممکن ہے کہ بلاگ کو مستقبل میں صرف ماہر ادیبوں کا پلیٹ فارم تصور کیا جائے۔ یعنی صحافی ، سائنسدان ، اساتذہ وغیرہ اس کا استعمال کریں۔ دراصل ، بلاگ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کی اہمیت کو صحیح معنوں میں سمجھا ہی نہیں گیا۔ تقریبا ًایک دہائی کے سفر کے باوجود بلاگنگ کا کوئی اقتصادی ماڈل تیار نہیں ہو پایا ہے۔ صرف ایسا بھی ہو پاتا تو کئی بلاگروں کے لئے بلاگنگ میں ایک کشش رہتی۔ بلاگنگ کے فی گھٹتے کرےز کو لے کر اب مرثیہ پڑھنے کا کوئی مطلب نہیں ، لیکن اگر بلاگنگ کو لوگوں نے پوری طرح الوداع کہا تو ایک بے حد اہم پلیٹ فارم مکمل استعمال ہوئے بغیر ہی ختم ہو جائے گا جو ٹھیک نہیں ہوگا۔
Sunday, November 6, 2011
غسل کعبہ اور غلاف کعبہ
خانہ کعبہ کا غلاف کل 9ذی لحجہ کو ہفتے کے دن تبدیل کیا گیا۔ روایتی طور پر غلاف کعبہ ہر سال حج کے دن نو ذلحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ غسل کعبہ کی تقریب 8ذی لحجہ کو ادا کی جاتی ہے ۔
اس سال نیا غلاف چھ سو سترکلوگرام خالص ریشم اور ڈیڑ ھ سوکلو گرام خالص سونے اور چاندی سے تیار کیا گیا ہے ۔غلاف کعبہ پر دو کروڑ ریال لاگت آئی ہے۔ غلاف کعبہ پربیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہیں۔اس کا سائز چھ سو ستا و ن مربع میٹر ہے اور یہ سنتا لیس حصوں پر مشتمل ہے ۔زمین سے تین میٹر کی بلندی پر نصب کعبہ کے دروازے کی لمبائی چھ میٹر او رچوڑائی تین میٹر ہے ۔غلاف کعبہ چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔اتارے جانے والے غلاف کے ٹکرے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور دیگر معززین کو بطور تحفہ پیش کر دئیے جاتے ہیں۔
نیا غلاف چڑھانے سے پہلے خانہ کعبہ کو عرق گلاب سے معطر آب زم زم سے غسل دینے کی مبارک تقریب ہر سال باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہے۔ غسل کے اوقات کا تعین حکومت وقت کرتی ہے۔ اس رسم میں سعودی عرب کے حکام، اسلامی ممالک کے وفود اور ممتاز زائرین شریک ہوتے ہیں۔
غسل کعبہ کے موقع پر روایتی اعتبار سے سب سے پہلے خادم حرمین شریفین (سعودی عرب کے فرما ںروا) گورنر مکہ کے ساتھ خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہیں۔دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ خانہ کعبہ کے فرش کو عرق گلاب سے معطر آب زم زم سے دھوتے ہیں۔ خانہ کعبہ کی دیواروں کو ایک خاص قسم کی جاروب (جھاڑو) سے دھویا جاتا ہے۔ یہ جھاڑو کھجور کے پتوں سے خصوصی انداز میں بنائی جاتی ہے۔
دھلائی کے عمل کے دوران گورنر مکہ ہر طرف عرق گلاب چھڑکتے رہتے ہیں۔ دھلائی والا پانی خانہ کعبہ کے دروازے کی دہلیزکے سوراخ سے باہر نکلتا رہتا ہے۔دھلائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد خانہ کعبہ کی عمارت کے اندر قسم قسم کے بخورات (خوشبوﺅں) کی دھونی دی جاتی ہے۔
کعبہ کا تصور یا نام زبان پر آتے ہی ادب، احترام اور احساس کی ایسی کیفیت ابھرتی ہے کہ جس کا بیان الفاظ میں آسان نہیں۔تجلیات، عقیدت، روحانیت اور کیف و سرور کے اثرات سے مزین یہ عمارت بیت اللہ کہلاتی ہے ۔جس کا مطلب اللہ کا گھر ہے ۔ کعبہ ، اللہ کا گھر اور مسلمانوں کا قبلہ ہے ۔مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے تقریباً عین وسط میں کعبة اللہ واقع ہے۔ لغت کے اعتبار ے کعبہ ہر بلند اور مربع عمارت کو کہتے ہیں ۔ یہ نام کعبہ کے مربع شکل ہونے کی وجہ سے پڑ گیا ہے ۔کعبے کی چاروں دیواریں ایک سیاہ پردے یا غلاف سے ڈھکی رہتی ہےں۔پورے کعبے کو اس غلاف نے ڈھانپ رکھا ہے۔ کعبے کو غلاف پہنانے کا رواج قدیم ترین زمانے سے چلا آ رہا ہے۔
خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا ابن ہشام اور دیگر مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے ساتھ ساتھ غلاف کا اہتمام بھی کیا تھا۔
فتح مکہ کے بعد جب حضور ﷺنے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس وقت آپ ﷺنے غلاف کعبہ کو تبدیل نہیں کیا تھا۔
اسلامی تاریخ میں پہلی بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا تیار کردہ سیاہ رنگ کا غلاف چڑھانے کا حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا بعدمیں یہ غلاف عید الفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا بعد ازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
دس ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓنے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق ؓ پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کئے جانے لگے۔
حضرت عثمان غنی ؓ نے سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔خلافت راشدہ کے بعد سے اب تک خانہ کعبہ کا غلاف تواتر سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ 1927ءمیں شاہ عبد العزیز السعود نے اپنے بیٹے شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلد ازجلد ایک کارخانہ قائم کریں۔
سعودی کارخانے میں تیار ہونے والا پہلا غلاف ہندوستان کے مسلمان کاریگروںنے تیار کیا ۔مکہ میں غلاف کعبہ کے لیے یہ فیکٹری ” دارالکسوہ “ کے نام سے قائم کی گئی ۔1962ءمیں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔
شاہ فہد کے زمانے میں 18جنوری1983کو اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت میں رکھنے کے لیے ملت اسلامیہ کی جانب سے غلاف کعبہ کا پردہ عطیہ کے طور پر پیش کیا۔ یہ پردہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی مرکزی عمارت کے استقبالیہ میں نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)
सुशासन की त्रासदी
मेराज नूरी -------------- बिहार के मुजफ्फरपुर बालिका गृह यौनाचार मामले में पुलिस भी अब शक के घेरे में है। साथ ही राजनीतिक पार्टियां और...
-
عظیم فن کار کندن لال سہگل کی مقبولیت ہر کوئی خاص وعام میں تھی، لیکن منگیشکر خاندان میں ان کا مقام علیٰحدہ تھا۔ اس گھر میں صرف اور صرف سہگل ...
-
अहमदाबाद। पूरी दुनिया को अपनी जादूगरी से हैरान कर देने वाले और विश्व प्रख्यात जादूगर के. लाल अब अपने जीवन का अंतिम शो करने जा रहे हैं। ...